ایوانوں میں مسلم نمائندگی بڑھانے کیلئے کانگریس پارٹی کام کرے گی : مہیش کمار گوڑ

   

گاندھی بھون میں عرفان علی کی بحیثیت صدرنشین اقلیت ڈپارٹمنٹ حلف برداری تقریب سے خطاب

حیدرآباد ۔ 25 اپریل (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ کانگریس سیکولر نظریات رکھنے والی سیاسی جماعت ہے جو تمام مذاہب اور طبقات کا نہ صرف احترام کرتی ہے بلکہ ان کی ترقی اور بہبود کیلئے کام کرتی ہے۔ تلنگانہ میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے تمام شعبہ حیات میں انصاف کیا جائے گا۔ تعلیمی، معاشی، سماجی پسماندگی کو دور کرنے کے ساتھ خصوصی اقدامات کئے جائیں گے۔ ایوانوں میں مسلم نمائندگی بڑھانے کا بھی وعدہ کیا۔ آج گاندھی بھون کے پرکاشم ہال میں محمد عرفان علی کی بحیثیت صدرنشین تلنگانہ کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر اے آئی سی سی سکریٹری سچن ساونت، وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین، کانگریس کے سینئر قائد وی ہنمنت راؤ، مختلف کارپوریشنس کے صدورنشین سیدعظمت اللہ حسینی، طاہر بن حمدان، عبیداللہ کوتوال، ایم اے فہیم، محمد ریاض، خسرو پاشاہ، فہیم قریشی اے آئی سی سی مائناریٹی ڈپارٹمنٹ کے انچارج شکیل نواز کے علاوہ تلنگانہ کے سینئر قائدین خواجہ فخرالدین، ظفر جاوید، افضل الدین، مجاہد عالم، سید نظام الدین، عثمان محمد خان، عظمیٰ شاکر، شیخ ارشد کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے۔ مہیش کمار گوڑ نے عرفان علی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہیں چھوٹی عمر میں بڑی ذمہ داری ملی ہے۔ وہ اضلاع کا دورہ کریں۔ مائناریٹی کمیٹیاں تشکیل دیتے ہوئے اقلیتوں کو کانگریس سے جوڑنے کا کام کریں۔ عام انتخابات میں مسلم امیدوار کامیاب نہ ہونے کی وجہ سے کابینہ میں مسلم نمائندگی میں تاخیر ہوئی ہے لیکن آج گورنر نے محمد اظہرالدین کیلئے لائن کلیر کردی ہے۔ آئندہ اسمبلی انتخابات میں مسلم نمائندگی بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ راہول گاندھی کو وزیراعظم بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس کی شروعات تلنگانہ سے ہونی چاہئے۔ ہم سب کو متحد ہوکر کام کرنا چاہئے۔ محمد اظہرالدین نے عرفان علی کو مبارکباد دیتے ہوئے انہیں اضلاع کا دورہ کرنے اور کمیٹیاں تشکیل دیتے ہوئے کانگریس کو مستحکم کرنے تمام اقلیتوں کو کانگریس کے قریب لانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کافی دنوں سے یہ عہدہ مخلوعہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حق بات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ مسلمانوں میں اتحاد کا فقدان ہے۔H/M/2
ہم آپس میں ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کے یہ الفاظ شاید چند لوگوں کو پسند نہیں آئیں گے مگر کل اس کی سچائی کو تسلیم کریں گے۔ ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں۔ ہم میں اتحاد نہیں ہے ہم صرف شکوے شکایت تک محدود ہیں۔ انہوں نے کسانوں کے مسائل پر کسانوں کے اتحاد کا حوالہ دیا۔ عرفان علی نے انہیں صدرنشین تلنگانہ کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ نامزد کرنے پر کانگریس قائدین سے اظہارتشکر کیا اور آپسی اتحاد سے پارٹی کے استحکام کیلئے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔2