اے پی کو خصوصی ریاست کا موقف حاصل کرنے کیلئے حکمراں جماعت کے ارکان پارلیمنٹ مستعفی ہو جائیں

   

تلگو دیشم کے ارکان پارلیمنٹ سے استعفیٰ دلانے، تلگو دیشم سربراہ چندرا بابو نائیڈو کا پیشکش

حیدرآباد۔ 11 ڈسمبر (سیاست نیوز) سربراہ تلگودیشم پارٹی و سابق چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے لئے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ سے استعفی دلانے کا چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کو چیلنج کیا۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو استعفے دلانے پر تلگو دیشم کے ارکان پارلیمنٹ سے استعفی دلانے کا پیشکش کیا۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے این چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی خود غرضانہ سیاست سے آندھرا پردیش کے مفادات کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جگن موہن ریڈی نے خصوصی موقف کے مسئلہ پر مرکز کی گردن مروڑنے کا اعلان کیا تھا ۔ اب گردن جھکا کر خاموش ہو جانے کا الزام عائد کیا۔ چندرا بابو نائیڈو نے آندھرا پردیش کے لئے خصوصی ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے لئے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے احتجاج نہ کرنے پر تعجب کا اظہار کیا۔ انہوں نے ان کے چیلنج پر ردعمل کا اظہار کرنے کا چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کو مشورہ دیا اور کہا کہ آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا موقف حاصل ہو جاتا ہے تو اونگول حیدرآباد جیسے شہر میں تبدیل ہو جانے کا ماضی میں جگن موہن ریڈی نے دعویٰ کیا تھا۔ اب اس مسئلہ پر خاموشی معنی خیز ہے۔ وشاکھاپٹنم کو ریلوے زون بتانے کی کوئی تجویز نہ ہونے کا مرکز نے اعلان کیا اس پر بھی چیف منسٹر خاموش ہیں۔ ن