بانکے بہاری مندر کے چندہ میں ہیرا پھیری پر سپریم کورٹ کی برہمی

   

ایک ایک پیسہ تجوری میں پہنچنا چاہیے‘عدالت عظمی کا سخت موقف

نئی دہلی ۔25؍اگست ( ایجنسیز )سپریم کورٹ نے منگل کو ورنداون کے شری بانکے بہاری مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے دیے جانے والے چندہ میں مبینہ خرد برد اور رقم غلط طریقے سے نکالے جانے کے الزامات پر سخت موقف اختیار کیا۔ عدالت عظمیٰ نے ایک عرضی پر سماعت کے دوران ہدایت دی کہ عقیدت مندوں کی جانب سے دیا گیا ایک ایک پیسہ یا تو مندر کی چندہ پیٹیوں میں پہنچے یا آن لائن ذرائع سے براہ راست مندر کے خزانے میں جمع ہو۔ عدالت نے کہا کہ چندہ کی رقم کو کسی بھی طرح اِدھر اْدھر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ کے سامنے مندر کے کام کاج کی نگرانی کر رہی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی۔ سینئر وکیل منندر سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ معاملے میں انتہائی سنگین صورت حال سامنے آئی ہے اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عدالت کے سامنے تصاویر اور ایک ویڈیو بھی پیش کی۔ منندر سنگھ نے بتایا کہ ویڈیو میں 3 افراد ’گولک‘ یعنی روایتی چندہ پیٹی کے سامنے کھڑے نظر آ رہے ہیں جو عقیدت مندوں سے رقم لے کر اسے اپنی پلاسٹک کی تھیلیوں میں ڈال رہے ہیں۔اس معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ چندے کی ہر رقم چندہ پیٹی یا آن لائن ذرائع سے مندر کے خزانے تک پہنچنی چاہیے۔ سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ سیوایتوں یا کسی دوسرے شخص کی جانب سے اس میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے تو اسے انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ عدالت نے مندر کی انتظامی کمیٹی کو مندر کے خزانے کے نظام میں شفاف طریقۂ کار نافذ کرنے کی بھی ہدایت دی۔قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں ٹھاکر شری بانکے بہاری جی مہاراج مندر کی انتظامی کمیٹی کی جانب سے دائر عرضیوں پر سماعت کر رہا ہے۔ عدالت کی ہدایات کا مقصد مندر میں آنے والے چندہ کی رقم کے جمع کرنے اور اس کے انتظام میں شفافیت یقینی بنانا ہے تاکہ عقیدت مندوں کی جانب سے دی گئی رقم کا مکمل حساب مندر کے سرکاری خزانے میں درج ہو۔

لکھنؤ میں وکیلوں کے چیمبرز کومنہدم کرنے کے خلاف عرضی سپریم کورٹ سے خارج
نئی دہلی، 25 اگست (یو این آئی) سپریم کورٹ نے منگل کے روز لکھنؤ ڈسٹرکٹ کورٹ کے قریب سرکاری زمین پر مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے وکیلوں کے چیمبرز کو منہدم کرنے کے نوٹس جاری کرنے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی کو خارج کر دیا ہے ۔جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ صرف اس بنیاد پر غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا کہ ان پر وکیلوں کا قبضہ ہے ۔ جسٹس ناتھ نے کہا کہ اگر عدالت کے احاطے پر ہی قبضہ کر لیا جائے گا تو ان کے تحفظ کی ذمہ داری کس کی ہوگی۔عدالت نے ثالثی یا متبادل جگہ فراہم کرنے کی تجویز کو بھی مسترد کر دیا اور عدالتی احاطے کو تجاوزات سے پاک رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ معاملہ تقریباً 72 لوگوں کے مبینہ قبضے سے متعلق ہے ، جن میں زیادہ تر وکلاء شامل ہیں، جن کے چیمبرز لکھنؤ ڈسٹرکٹ کورٹ کے پاس عوامی راستوں یا یوٹیلٹی زمین پر تعمیر کیے گئے تھے ۔