سنجیدہ، اُصولی اور قانونی جدوجہد بورڈ کا طریقہ کار، ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کا بیان
حیدرآباد 22 ستمبر (سیاست نیوز) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہاکہ 17 ستمبر کو جنتر منتر پر پولیس کی جانب سے دھرنے کی اجازت نہ دینے پر بورڈ نے دھرنا منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا میں حقائق سے ناواقفیت کی بناء پر بعض افراد بورڈ کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ بعض افراد نے اخلاقی حدود سے بھی تجاوز کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک ذمہ دار ملت کے افراد سے اِس نامناسب رویہ کی توقع نہیں کی جاسکتی۔انہوں نے کہاکہ عوام گمراہ کن تبصروں سے متاثر نہ ہوں اِس لئے ضروری ہے کہ بعض اہم حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے جائزہ لیا جائے۔ بورڈ کے قیام سے لیکر آج تک اُس کے اکابرین اور ذمہ داران نے ہمیشہ شریعت اور ملک کے قانون کے دائرہ میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔ بورڈ کے پہلے صدر مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ سے لیکر مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ؒ تک بورڈ کا مزاج جذباتی سیاسی ردعمل کے بجائے سنجیدہ، قانونی اور اُصولی جدوجہد پر مبنی رہا ہے۔ اِس کے فیصلے وقتی جذبات سے نہیں بلکہ حالات کے گہرے تجربہ، اُمت کے مفاد اور دوررس نتائج کو پیش نظر رکھ کر کئے جاتے ہیں۔بورڈ ایسا کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کرتا جس کے نتیجہ میں مسلم نوجوانوں کو غیر ضروری طور پر سڑکوں پر آنے اور حکومت کو اُن خلاف کارروائی کا موقع ملے۔ موجودہ حالات میں پہلے ہی ہزاروں مسلم نوجوان جیلوں میں بند ہیں اور اُن کے گھر والے دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی احتجاجی اقدام کے ممکنہ نتائج پر غور کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ احتجاج کا مقصد مسائل کا حل اور حقوق کا تحفظ ہے نہ کہ نوجوانوں کو خطرات سے دوچار کرنا۔بورڈ نے ملک کی موجودہ صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے اِس بات کی وضاحت کی ہے کہ بورڈ کے موجودہ ذمہ داروں نے کئی اہم شہروں میں بڑے احتجاج منظم کئے۔ جنتر منتر پر دھرنا نہیں ہوسکا لیکن احتجاج کا بنیادی مقصد بہتر انداز میں عوام تک پہنچ چکا ہے۔ بورڈ اپنے اُصولی موقف سے دستبردار نہیں ہوا ہے اور ملت کے دینی، قانونی اور اجتماعی حقوق کے تحفظ کے لئے جدوجہد جاری رکھے گا۔ اُنھوں نے عوام سے اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر بورڈ کو نشانہ بنانے والے افراد کی کوششوں سے متاثر ہونے کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لیں۔ مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ اجتماعیت کو برقرار رکھیں۔ ذمہ دار اداروں کے ساتھ تعلق اور اعتماد کو قائم رکھیں اور کسی بھی معاملہ میں جذباتی ردعمل کے بجائے سنجیدگی، بصیرت اور باہمی تعاون سے کام لیں۔V/1