عمل سے دور صرف کتابوں تک محدود ، بی جے پی ارکان اسمبلی کا دعویٰ
حیدرآباد :۔ بی جے پی نے ریاستی وزیر فینانس ہریش راؤ کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کو اعداد و شمار کی اُلٹ پھیر اور کتابوں تک محدود رہنے والا بجٹ قرار دیا ۔ اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے بجٹ کو دھوکہ اور عوام کو گمراہ کرنے کا تلنگانہ حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ صرف کتابوں تک محدود رہے گا ۔ اس پر کبھی عمل آوری نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ بجٹ موسیٰ ندی کی خوبصورتی اور ترقی کے لیے کروڑہا روپئے مختص کئے گئے تھے ۔ وہ کہاں گئے حکومت سے استفسار کیا اور کہا کہ کھیل کود کے شعبہ کو ایک روپیہ بھی مختص نہیں کیا گیا ۔ ایل بی اسٹیڈیم کو شاپنگ کامپلکس میں تقسیم کردینے کا الزام عائد کیا ۔اسمبلی حلقہ دوباک کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی کے رکن اسمبلی راگھونندن راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے خود دعویٰ کیا ہے کہ کورونا بحران کی وجہ سے ریاست کو ایک لاکھ کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔ پھر بھی سال برائے 2021-22 کے لیے 2,30,825 کروڑ روپئے کا مجموعی تخمینہ بجٹ پیش کیا ہے ۔ یہ کیسے ممکن ہے ۔ اس پر حیرت ہورہی ہے ۔ ریاست پر قرض کے بوجھ میں زبردست اضافہ ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک سے لوٹنے والے افراد کی بہبود کے لیے 500 کروڑ روپئے مختص کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ مگر بجٹ میں اس کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی ہے ۔ حکومت عوام کے سامنے سچ چھپاتے ہوئے جھوٹ بول رہی ہے ۔ بجٹ مباحث میں بی جے پی بجٹ کی جھوٹی شان کا پردہ فاش کرے گی ۔۔