بجٹ سیشن میں کانگریس کا غلبہ، بی آر ایس کے خلاف جارحانہ موقف سے چیف منسٹر مطمئن

   

ضلعی سطح پر سابق حکومت کی بے قاعدگیوں کو پیش کرنے کی ہدایت، مجلس کے موقف سے بی آر ایس کو مایوسی، بی جے پی اثر انداز ہونے میں ناکام
حیدرآباد۔/18 فروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اسمبلی بجٹ سیشن میں وزراء اور پارٹی ارکان اسمبلی کی جانب سے سابق بی آر ایس حکومت کی بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کو آشکار کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے بجٹ سیشن کے بعد وزراء اور ارکان اسمبلی سے ملاقات کے دوران بجٹ سیشن کی کامیاب حکمت عملی کی ستائش کی۔ واضح رہے کہ سیشن کے 8 دنوں میں کانگریس نے سابق حکومت کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کیا اور دو مرتبہ پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ ریاست کی معاشی صورتحال اور آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر میں خامیوں اور بے قاعدگیوں کو عوام کے روبرو پیش کیا۔ بجٹ سیشن کے ذریعہ حکومت نے یہ واضح طور پر پیام دینے کی کوشش کی ہے کہ آنے والے دنوں میں سابق حکومت کے خلاف مزید کئی تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا۔ آبپاشی پراجکٹس میں بے قاعدگیوں کی عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا گیا تھا لیکن برسرخدمت جج کی خدمات حاصل نہ ہونے کے سبب ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو تحقیقات کی ذمہ داری دینے پر غور کیا جارہا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے وزراء اور ارکان اسمبلی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اپنے اضلاع اور اسمبلی حلقہ جات میں کالیشورم اور میڈی گڈہ بیاریج کی ناقص تعمیرات اور اضافی تخمینہ کے ذریعہ بھاری بے قاعدگیوں کو عوام کے درمیان پیش کریں۔ ضرورت پڑنے پر ہر ضلع میں پارٹی قائدین اور کارکنوں کیلئے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ تفصیلات سے واقف کرایا جائے گا۔ بجٹ سیشن میں حکومت نے ذات پات پر مبنی مردم شماری کے حق میں قرارداد منظور کی ہے لیکن اس سلسلہ میں قانونی طور پر بعض رکاوٹیں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی سطح پر حکومت کو مردم شماری کا اختیار حاصل نہیں ہے لہذا قرارداد میں جامع سروے کا لفظ استعمال کیا گیا۔ بجٹ سیشن میں برسراقتدار پارٹی مکمل طور پر حاوی رہی اور بی آر ایس کو اپنی سابق حلیف جماعت مجلس سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت کی جانب سے بی آر ایس پر سخت حملوں کے باوجود مجلس نے اپنی سابقہ حلیف کی تائید نہیں کی۔ بجٹ پر مباحث اور آبپاشی پراجکٹس کے علاوہ ذات پات پر مبنی سروے میں مجلس نے حکومت کی تائید کرتے ہوئے آئندہ پانچ برسوں میں اپنا حلیف تبدیل کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ سیشن میں بی جے پی دوسری بڑی اپوزیشن کے موقف کے باوجود اثرانداز ہونے میں ناکام رہی۔ پارٹی ارکان کے داخلی اختلافات اور مہیشور ریڈی کو فلور لیڈر منتخب کرنے سے کئی ارکان ناراض ہیں جس کا اثر ایوان میں مباحث کے وقت دیکھا گیا۔ مہیشور ریڈی جو سابق میں کانگریس سے وابستہ رہ چکے ہیں وہ حکومت پر شدید حملوں میں ناکام رہے۔ الغرض بجٹ سیشن کی کامیاب حکمت عملی سے مطمئن چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وزراء اور ارکان کو مبارکباد پیش کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے لوک سبھا انتخابات کے شیڈول کی اجرائی سے قبل ہی اضلاع کے دوروں کا منصوبہ بنایا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ ماہ الیکشن کمیشن شیڈول جاری کرے گا اور اپریل اور مئی میں انتخابات مختلف مراحل میں منعقد ہوں گے۔ چیف منسٹر نے لوک سبھا چناؤ کیلئے کانگریس امیدواروںکی فہرست پر حکمت عملی ساز سنیل کونگلو کو اپنی پسند کے ناموں سے واقف کرادیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس ہائی کمان انچارج تلنگانہ دیپا داس منشی اور سنیل کونگلوکی رپورٹ کی بنیاد پر امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دے گا۔1