اقلیتی بہبود عہدیداروں کا بھٹی وکرامارکا کے ساتھ بجٹ جائزہ اجلاس، ائمہ مؤذنین کا اعزازیہ اور اسکالرشپ بجٹ کی اجرائی کا تیقن
حیدرآباد 21 فبروری (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے آئمہ مؤذنین کے ماہانہ اعزازیہ کے بقایا جات کے علاوہ اقلیتی طلبہ کی اسکالرشپ، فیس باز ادائیگی اور اوورسیز اسکالرشپ اسکیمات کے بجٹ کی اجرائی کا تیقن دیا۔ بھٹی وکرامارکا نے محکمہ اقلیتی بہبود کے بجٹ پر اقلیتی اداروں کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود یاسمین باشاہ آئی اے ایس نے سال 2025-26 ء کے لئے 4 ہزار کروڑ بجٹ کی تجاویز پیش کیں۔ اُنھوں نے اقلیتی اسکیمات کے لئے بجٹ کی ضرورت پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن دیا۔ یاسمین باشاہ نے ڈپٹی چیف منسٹر کی توجہ اقلیتوں کی اسکیمات کے لئے بجٹ کی اجرائی پر مبذول کرائی۔ اُنھوں نے کہاکہ آئمہ مؤذنین کے ماہانہ اعزازیہ کی رقم کے 3 ماہ کے بقایا جات ہیں۔ رمضان المبارک کا آغاز ہونے کو ہے لہذا محکمہ فینانس کو اعزازیہ کی رقم جاری کرنے کی ہدایت دی جائے۔ اُنھوں نے اوورسیز اسکالرشپس اسکیم کا بجٹ جاری کرنے کا مشورہ دیا اور بتایا کہ گزشتہ 2 سال سے اسکیم کا بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ کے بجٹ کے بارے میں بھی ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے بھٹی وکرامارکا کی توجہ مبذول کرائی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے تیقن دیا کہ وہ محکمہ فینانس کو تینوں اسکیمات کے لئے فنڈس کی اجرائی کی ہدایت دیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں سنجیدہ ہے۔ اقلیتی بہبود کے لئے جاریہ اسکیمات میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ فلاحی اسکیمات کے لئے بجٹ کی اجرائی میں حکومت کو دشواریوں کا سامنا ہے تاہم حکومت بجٹ جاری کرنے میں کوئی تعمل نہیں کررہی ہے۔ اُنھوں نے عہدیداروں سے کہاکہ وہ فلاحی اسکیمات کی بڑی پیمانے پر تشہیر کریں تاکہ اسکیمات کے فوائد سے عوام واقف ہوں۔ بھٹی وکرامارکا نے اقلیتی اسکیمات اور رمضان المبارک کے انتظامات پر عنقریب جائزہ اجلاس طلب کرنے سے اتفاق کیا۔ اِس موقع پر اسپیشل چیف سکریٹری فینانس رام کرشنا راؤ، چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ، ڈائرکٹر سی ای ڈی ایم پروفیسر ایس اے شکور، منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن شریمتی کانتی ویزلی، ایکزیکٹیو آفیسر حج کمیٹی سجاد علی، منیجنگ ڈائرکٹر کرسچن فینانس کارپوریشن شریمتی سبیتا اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔ 1