سوائن فلو اور ڈینگو کے بھی کیس : ڈاکٹر خضر حسین جنیدی
حیدرآباد۔18۔اگسٹ(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں بخار ‘ کھانسی اور زکام کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹرس مریضوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ بخار سے محفوظ رہنے کے لئے ٹیکہ لینے سے گریز نہ کریں کیونکہ ریاست بالخصوص شہر حیدرآباد میں سوائن فلو کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہونے لگا ہے۔ ڈاکٹر خضر حسین جنیدی نے بتایا کہ سوائن فلو کے مریضوں میں پائی جانے والی علامات میں ناک بند ہوجانا ‘ دمہ کی شکایت‘ اعضاء شکنی ‘ سونگھنے کی صلاحیت کا ضائع ہونا‘ چکھنے کی صلاحیت ختم ہونے کے علاوہ کمزوری اور نقاہت ہیں اور بعض مریضوں کو بخار نہ آنے کے سبب یہ تصور کررہے ہیں کہ وہ وائرل کا شکار ہوئے ہیں لیکن ایسا تصور کرنے کے بجائے انہیں فوری کسی ماہر ڈاکٹرسے مشورہ کرنا چاہئے۔ انہو ںنے بتایا کہ سوائن فلو کے مریض بھی اس بیماری کو دوسروں کو پھیلانے کا سبب بنتے ہیں اسی لئے انہیں ممکنہ حد تک قرنطینہ اختیار کرنے کے علاوہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ سوائن فلو کے علاوہ شہر میں ڈینگو اور کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے لیکن حالیہ دنوں میں سوائن فلو کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ اور کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے ۔ ڈاکٹر خضر حسین جنیدی نے بتایا کہ سوائن فلو سے محفوظ رہنے کے لئے صفائی اور نفاست کا خصوصی خیال رکھنا ضروری ہے ۔ انہو ںنے بار بار ہاتھ دھونے اور اطراف واکناف صفائی کا خیال رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے لیکن اگر اس کے باوجود اگر کسی میں علامات پائی جاتی ہیں تو ایسی صورت میں انہیں فوری علاج پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سوائن فلو کا شکار ہونے سے محفوظ رہنے کے لئے دیئے جانے والے ٹیکہ ’انفلوینزا‘ کے متعلق بتایا کہ اگر کوئی اب تک سوائن فلو کا شکار نہیں ہوئے ہیں اور اس بخار سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو وہ یہ ٹیکہ حاصل کرسکتے ہیں ۔ ڈاکٹر خضر حسین جنیدی نے کہا کہ مریضوں میں تھکاوٹ ‘ اعضاء شکنی اور کمزوری محسوس ہونے کے علاوہ اگر انہیں کثرت سے پسینہ جاتا ہے تووہ اسے نظرانداز کرتے ہوئے گھریلو ادویات سے کام نہ چلائیں کیونکہ زیادہ کمزوری کی صورت میں اس بات کا خدشہ ہوتا ہے کہ مریضوں کو ماہرین کی نگرانی میں ادویات دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اسے نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔م