برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن آخرکار مستعفی

,

   

کئی اسکینڈل نے وزیراعظم جانسن کی ساکھ متاثر کردی ، متعدد وزراء کے استعفوں نے صورتحال بگاڑ دی

لندن : وزیراعظم برطانیہ بورس جانسن یکے بعد دیگر اسکینڈلوں اور سیاسی بحران کے نتیجہ میں آخر کار جمعرات کو مستعفی ہوگئے ۔ وہ اپنے وزارتی رفقاء اور اپنی کنزرویٹیو پارٹی کے قانون سازوں کے دباؤ میں آخر کار اپنے عہدہ سے ہٹ گئے ۔ 58سالہ جانسن نئے لیڈر کے انتخاب تک 10ڈاؤننگ اسٹیریٹ میں ذمہ داری سنبھالے رہیں گے ۔ نئے لیڈر کے انتخاب کا عمل اکٹوبر میں مقرر ہے ۔ جانسن کا استعفیٰ کئی دنوں سے جاری سیاسی ڈرامہ کا شاخسانہ ثابت ہوا ہے ۔ منگل سے اُن کی کابینہ سے استعفیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور دو روز میں برطانوی حکومت کے لگ بھگ 30 عہدیدار اپنے عہدوں سے علحدہ ہوگئے ۔ جن میں نمایاں شخصیتیں جیسے وزیر صحت ساجد جاوید اور وزیر فینانس رشی سونک شامل ہیں ۔ جانسن کی حکومت پچھلے کچھ مہینوں سے اسکینڈلز کی زد میں تھی۔ وزیراعظم کو کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن قوانین کو توڑنے پر جرمانہ کیا گیا تھا۔یہی نہیں بلکہ ان کے ڈاؤننگ سٹریٹ آفس کے عہدیداروں کے رویے کے خلاف ایک قابل مذمت رپورٹ شائع ہوئی تھی جنہوں نے لاک ڈاؤن قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزیراعظم جانسن کی پالیسی میں یوٹرن بھی دیکھے گئے، لابنگ کے حوالے سے بنائے گئے قواعد توڑنے والے ایک قانون ساز کا خوامخواہ دفاع بھی ان پر تنقید کی وجہ بنا۔اس کے ساتھ ساتھ بورس جانسن پر یہ تنقید بھی کی گئی کہ انہوں نے ایندھن اور اجناس کی بڑھتی قیمتوں کا سامنا کرنے والے برطانوی عوام کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔تازہ ترین سکینڈل میں جانسن نے ایم پی کرس پنچر کو حکومتی عہدے پر تعینات کیا جن کے خلاف جنسی بدسلوکی کی شکایات تھیں۔اس سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد رشی سونک نے وزیر خزانہ اور ساجد جاوید نے سیکریٹری صحت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ساجد جاوید نے اپنے استعفے کے متن میں لکھا کہ ’یہ واضح ہے کہ یہ صورتحال آپ کی قیادت میں نہیں بدلے گی، اس لیے آپ نے میرا اعتماد بھی کھو دیا ہے۔‘انہوں نے لکھا کہ انتہائی افسوس کے ساتھ مجھے آپ کو بتانا ہو گا کہ میرا ضمیر مجھے اس حکومت میں خدمات جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ برطانوی عوام اپنی حکومت سے دیانتداری کی توقع رکھتے ہیں۔