مولانا ڈاکٹر غلام رسول جامی کشمیر اور مولانا شمیم الزماں و دیگر کی شرکت
حیدرآباد 24 جنوری ( پریس نوٹ) کل ہند بزم رحمت عالم کی جانب سے 27 جنوری پیر کو بعد نماز عشاء 16 واں مرکزی جلسہ معاج النبی ؐ قلی قطب شاہ اسٹیڈیم میں عظیم الشان پیمانے پر منعقد ہوگا ۔ جلسہ کی صدارت جناب ایم اے مجیب صدر کل ہند بزم رحمت عالم کریں گے جبکہ حافظ محمد مظفر حسین خان قادری بندہ نوازی نگرانی کریں گے ۔ جلسہ کی سرپرستی حضرت سید محمود حسینی قادری الرفاعی المعروف سادات پیر بغدادی اور حضرت خواجہ سید ابو تراب شاہ قادری چشتی یمنی بندہ نوازی تراب قادری سجادہ نشین آستانہ قادریہ ہلکٹہ شریف کی حمایت رہے گی ۔ اس مرتبہ بزم کی دعوت پر ڈاکٹر غلام رسول جامی پروفیسر و چانسلر شیخ العالم ریسرچ یونیورسٹی جموںو کشمیر کے علاوہ عالمی شہرت یافتہ ممتاز و جید عالم دین مولانا مفتی محمد شمیم الزماںقادری اور مفتی اطہر حسین ضیائی مہاراشٹرا کی شرکت و خطابت ہوگی ۔ جلسہ کا آغاز مولوی محمد عظیم قادری کی قرآت کلام پاک سے ہوگا ۔ سید اسد اللہ شریف ‘ محمد شفیع خان اور حافظ نصیب قادری بارگاہ رسالت مآب میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کریں گے جبکہ مقامی علمائے کرام مفتی محمد صلاح الدین نظامی نائب صدر بزم اور مولانا شہود عالم اشرفی کے بھی خطابات ہونگے ۔ نظامت محمد مصطفی خان قادری کی ہوگی ۔ مولانا حافظ سید وسیم الدین احمد اسدی قادری شمیمی محمد معراج اور حافظ ساجد قادری نے عوام سے شرکت کی خواہش کی ہے ۔
بحوالہ قرآن و احادیث صحیحہ بموقع معراج حضورؐ نے
اپنی آنکھوں سے اللہ کو دیکھا
حضورؐ کا اثباتِ رویتِ باری۔ مولانا غوثوی شاہ کا بیان
حیدرآباد ۔ 25 جنوری (راست) مولانا غوثوی شاہ نے آنحضورؐ کے اثباتِ رویتِ باری کے تعلق سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حدیث صحیح بخاری شریف باب کتاب التوحید میں حضرت شریک بن عبداللہؓ نے حضرت انسؓ سے یہ روایت کی ہیکہ ’’حضورؐ جب سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے تو عزت والا جبار (حق تعالیٰ) حضورؐ کے یہاں تک قریب ہوا اور جھک آیا کہ اس کے اور آپؐ کے درمیان دو کمانوں (قاب قوسین) یا اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا (یعنی حضورؐ نے حق تعالیٰ کو بہت ہی قریب سے دیکھا) اسی طرح صحیح مسلم میں وارد ہیکہ حضورؐ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کو اپنی آنکھوں اور اپنے دل سے دیکھا ہے۔ اسی طرح مشکوٰۃ جلد سوم کتاب الفتن بحوالہ حدیث صحیح ترمذی یہ وارد ہیکہ حضرت محمدؐ نے اپنے رب کو دیکھا اسی طرح حدیث صحیح مسلم میں مفسرقرآن حضرت عبداللہ ابن عباسؓ نے قسم کھا کر فرمایا وقدرای ربہ مرتین بلکہ حضورؐ نے اپنے رب کو دو مرتبہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اسی طرح بحوالہ مسلم کتاب الایمان حضورؐ نے فرمایا انی راہ میں نے اپنے رب کو دیکھا ہے۔ اسی طرح بحوالہ طبرانی ابن خزیمہ، احمد، مسلم، ترمذی حضورؐ نے فرمایا رایت نور حضورؐ نے اللہ کو بصورتِ نور دیکھا۔ اسی طرح حدیث صحیح احمد نے حضرت ابن عباسؒ سے یہ روایت کی ہیکہ حضورؐ نے فرمایا۔ رایت ربی عزوجل میں احمد نے حضرت ابن عباسؒ سے یہ روایت کی ہیکہ حضورؐ نے فرمایا۔ رایت ربی عزوجل میں نے اپنے رب کو دیکھا۔ الحاصل حضورؐ کو جسمانی معراج ہوئی اور آپؐ نے اپنی ظاہری مبارک آنکھوں سے یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ کو دیکھا تب ہی تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حضورؐ کے آنکھوں کی اور دیکھنے کی تعریف ان الفاظ میں کی مازاغ البصر وما طغی اللہ کو دیکھتے وقت آپؐ کی آنکھیں نہ جھپٹی اور نہ چندھیائی۔ افتمرونہ علی مایری پس تم (رسول اللہؐ کے) خدا کو دیکھنے پر جھگڑے کیوں ہو (قرآن) یعنی تم حضورؐ کے اللہ کو دیکھنے کا انکار کیوں کرتے ہو۔ واضح باد کہ سیر عبدیت (اثباتِ رویت باری) واقعہ معراج پر لکھی گئی مشہور کتاب میں مولانا صحوی شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں وہی ذاتِ سبحان اپنے اس دیدہ باز حق تعالیٰ کو اس کے استقلالِ نظر و شوقِ دید و شوخی نظارہ اور بالمقابل ملاحظہ پر حضورؐ کو مازع البصر کا اعزاز عطا فرماکر خود ہی اس کی وسعت نگاہ کا وھو یدرک الابصار اور کنا علیھم شھود کے ساتھ ادراک فرمایا۔ الحاصل مستند حوالہ جات اور احادیث صحیحہ مذکورہ کی روشنی میں ہم کو ماننا ہی پڑے گا کہ حضورؐ نے بموقع معراج خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور یہی عقیدہ تمام علمائے اہلسنت و الجماعت کا ہے اور اسی پر ہمارا ایمان ہے۔