بنڈی سنجے کو ووٹ دینے والوں کو شرمندگی کا احساس

   

کرکٹ کو سیاست سے جوڑنا ذہنی دیوالیہ پن کی نشانی : مہیش کمار گوڑ
حیدرآباد ۔ 26 فبروری ۔ ( سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی بی مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کا ذہنی توازن بگڑ چکا ہے ۔ کونسل کے انتخابات میں شکست کے خوف سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں اور بہکی بہکی باتیں کرتے ہوئے بی جے پی کو انڈیا اور کانگریس کو پاکستان قرار دینے کی سخت مذمت کی اور گریجویٹ طبقہ سے اپیل کی کہ وہ کانگریس کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بناتے ہوئے بی جے پی کی فرقہ پرستی کو شکست دیں۔ مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ بنڈی سنجے کو ووٹ دینے والے حلقہ لوک سبھا کریم نگر کے عوام پچھتارہے ہیں اور شرمندگی کا اظہار کررہے ہیں ۔ سیاسی فائدے کیلئے بنڈی سنجے نچلے درجہ کی سیاست پر اُتر آئے ہیں جس کی تلنگانہ ریاست میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ مذہبی نفرت پھیلانا بنڈی سنجے کی عادت بن گئی ہے۔ کرکٹ کو سیاست سے جوڑنے کی مذمت کی ۔ انھوں نے کہاکہ ریاست میں بی جے پی اور بی آر ایس کے درمیان خفیہ اتحاد ہوگیا ہے۔ بی آر ایس کی کونسل انتخابات سے دوری اس کاثبوت ہے ۔ بی جے پی انتخابات میں بھگوان رام کا نام لیتے ہوئے مرکز کے علاوہ شمالی ہند کے دیگر ریاستوں میں اقتدار حاصل کیا ہے ۔ کبھی بھی اپنی کارکردگی کی بنیاد یا رپورٹ پیش کرتے ہوئے کامیابی حاصل نہیں کی ۔ کانگریس پارٹی تلنگانہ میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر کونسل کے انتخابات میں گریجویٹ طبقہ سے ووٹ مانگ رہی ہے ۔ کانگریس حکومت کے ایک سال میں چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے 56 ہزار سرکاری ملازمتیں فراہم کی ہے ۔ فارمولہ ای کار ریس کی بدعنوانیوں پر کے ٹی آر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ فون ٹیاپنگ کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جارہی ہے ۔ تلنگانہ سے مرکزی کابینہ میں نمائندگی کرنے والے دو وزراء اور بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ مرکز سے تلنگانہ کو فنڈز لانے میں پوری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ انھوں نے بی جے پی کے قائدین کو مشورہ دیا کہ اُنھیں بی سی طبقات سے ہمدردی ہے تو وزیراعظم مودی سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے 9 ویں شیڈول میں بی سی تحفظات کو شامل کرنے کا چیلنج کیا ۔ 2