مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کیلئے سرگرمیاں عروج پر پہونچ چکی ہیں۔ ریاست میں ایس آئی آر کا عمل ابھی واجبی طریقہ سے مکمل نہیں ہوا ہے ۔ ریاست میں لاکھوں ووٹرس ایسے ہیں جن کے سروں پر فہرست سے نام خارج ہونے کی تلوار لٹک رہی ہے ۔ لاکھوں ووٹرس کے نام فہرست سے خارج کردئے گئے تھے۔ ان رائے دہندوں کی جانب سے اپنے حق میں دستاویزات پیش کئے جا رہے ہیں۔ جو کچھ بھی دستاویزات الیکشن کمیشن کی جانب سے طلب کئے گئے تھے انہیں پیش کرتے ہوئے اپنے نام شامل کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم ابھی تک ان رائے دہندوں کے تعلق سے قطعی فیصلہ نہیں ہو پایا ہے ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس عمل کی تکمیل کے بغیر ہی ریاست میں اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردیا گیا ہے اور سیاسی جماعتیں اپنی اپنی مہم میں مصروف ہوگئی ہیں۔ عوام سے رجوع ہوتے ہوئے مہم چلائی جا رہی ہے تاہم ان ہیں عوام میں موجود لاکھوں افراد کے مستقبل کے تعلق سے کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوپایا ہے ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے حالانکہ اپیل ٹریبونلس قائم کئے گئے ہیں تاہم ان میں بھی اس عمل کو پوری تیزی کے ساتھ آگے نہیں بڑھایا جا رہا ہے اور وہی ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے جس کے نتیجہ میں یہ ووٹرس پریشان ہیں اور وہ ایک سے دوسری جگہ چکر لگانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انتخابات در اصل عوام کو اپنی پسند کی حکومت کے انتخاب کا حق فراہم کرتے ہیں۔ اگر ان ہی ووٹرس کے نام فہرست سے خارج کردئے جائیں اور انہیں دستاویزات فراہم کرنے کے باوجود انتظار کی سولی پر لٹکا رکھا جائے تو پھر انتخابی عمل کی اہمیت و افادیت پر ہی سوال پیدا ہوجاتی ہیں اور بنگال میں یہی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ چیف منسٹر ممتابنرجی کی جانب سے اس تعلق سے جدوجہد ضرور کی جا رہی ہے تاہم مسئلہ پوری طرح سے حل نہیں ہوپایا ہے اور ووٹرس کے تعلق سے الیکشن کمیشن کی جانب سے قطعی فیصلہ نہیں ہوا ہے ۔ یہ صورتحال ایسی ہے جس پر الیکشن کمیشن کو فوری طور پر توجہ کرتے ہوئے اس تعلق سے فیصلہ کرنے اور جو حقیقی ووٹرس ہیں ان کے نام شامل کرنے کی ضرورت ہے ۔
جو ووٹرس فہرست میں نام نہ آنے کی وجہ سے پریشان ہیں ۔ یہ مسئلہ دوہری پریشانی کا بھی باعث ہے ۔ پہلے تو فہرست رائے دہندگان سے نام حذف ہونے سے وہ اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہوجائیں گے جبکہ دوسری پریشانی یہ ہے کہ ان کی شہریت پر بھی سوال پیدا ہونے لگ جائیں گے ۔ یہ اندیشے بے بنیاد نہیںہیں کہ ایس آئی آر کے بعد ملک میں این آر سی کا عمل شروع ہوگا ۔ایس آئی آر در اصل این آر سی کی ابتدائی شکل ہے ۔ ایسے میں کسی بھی حقیقی ووٹر اور حقیقی ہندوستانی شہری کو نہ ووٹ کے حق سے محروم کیا جانا چاہئے اور نہ ہی اس کی شہریت پر سوال پیدا کئے جانے چاہئیں۔ محض شکوک و شبہات کی بنیاد پر کسی بھی طرح کا فیصلہ کرنے سے قبل تمام دستاویزات کی جانچ کی جانی چاہئے ۔ تمام معلومات حاصل کی جانی چاہئے ۔ جن کے نام حذف کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا پورا پورا موقع دیا جانا چاہئے ۔ اس بات کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ حقیقی ووٹرس کو فہرست سے خارج کئے بغیر اگر انتخابات کروائے جاتے ہیں تو ان انتخابات کی اہمیت ختم ہوجائے گی اور اس کی قبولیت پر بھی سوال پیدا ہونے لگیں گے ۔ انتخابی عمل کو شفاف بنانا ضروری ہے تاہم یہ بھی بہت زیادہ ضروری ہے کہ کوئی بھی حقیقی ووٹر اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہونے نہ پائے ۔ اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے جو لاکھوں ووٹرس بنگال میںپریشان ہیں ان کے تعلق سے الیکشن کمیشن کو تیز رفتار سنوائی کرتے ہوئے فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
جمہوری عمل عوام کیلئے ہی ہوتا ہے اور عوام کے ذریعہ ہی ہوتا ہے ۔ جمہوری عمل کو داغدار نہیں کیا جانا چاہئے ۔ جمہوریت ہندوستان کا طرہ امتیاز ہے اور ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں۔ اگر ہمارے پاس ہی عوام کو ان کے حق سے محروم کیا جانے لگا تو پھر صورتحال ناقابل قبول ہوجائے گی ۔ ریساتی حکومت کو بھی اس تعلق سے سرگرمی دکھانے کی ضرورت ہے ۔ بنگال کی دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی یہ مسئلہ اٹھانے کی ضرورت ہے اور الیکشن کمیشن پر زور دیا جانا چاہئے کہ وہ اس تعلق سے قطعی فیصلہ کرتے ہوئے حقیقی ووٹرس کو فہرست میں شامل کرے تاکہ جمہوری عمل کی افادیت اور اہمیت برقرار رہ سکے ۔