گلوبل ٹنڈرس کے باوجود سربراہی میں وقت لگے گا، غیر ملکی کمپنیوں کے ردعمل کا انتظار
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے ویکسین کی قلت دور کرنے کے لئے گلوبل ٹنڈرس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تاہم عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ویکسین کی درآمدات کیلئے وقت درکار ہوگا کیونکہ کئی ریاستیں بیک وقت بیرونی ممالک سے ویکسین حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ ویکسین تیار کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں سے ملک کی کئی ریاستیں رجوع ہوچکی ہیں۔ تلنگانہ حکومت 18 سال سے زائد عمر کے ہر شخص کو مفت ویکسین فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے لیکن اس کام کے آغاز میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک کی 10 سے زائد ریاستوں میں ویکسین کیلئے بیرونی کمپنیوں سے گلوبل ٹنڈرس طلب کئے ہیں۔ ہندوستان میں تیار کرنے والی کمپنیوں سیرم انسٹی ٹیوٹ ، بھارت بائیو ٹیک ملک میں ویکسین کی طلب کی تکمیل سے قاصر ہیں۔ مرکزی حکومت نے ویکسین کے حصول کے معاملہ کو غیر مرکوز کردیا ہے جس کے نتیجہ میں ریاستوںکو بیرونی کمپنیوں سے ویکسین کے حصول کا اختیار حاصل ہوچکا ہے ۔ کرناٹک ، آندھراپردیش ، دہلی ، تلنگانہ ، اتراکھنڈ ، اڈیشہ ، مدھیہ پردیش ، اتر پردیش اور راجستھان بیرونی ویکسین کے حصول میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تلنگانہ کے علاوہ آندھراپردیش ، دہلی اور کرناٹک نے گلوبل ٹنڈرس طلب کیا ہے ۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بیرونی مینوفیکچرر سے ویکسین کب حاصل ہوگی ، اس بارے میں قطعی طور پر کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا بیرونی کمپنیاں ملک کی ریاستوں کے ٹنڈرس میں شامل ہوں گی۔ بیرونی ویکسین کے حصول کے باوجود انڈین ڈرگ ریگولیٹری اتھاریٹی سے منظوری حاصل کرنے کے لئے وقت لگے گا۔ سیرم انسٹی ٹیوٹ اور بھارت بائیو ٹیک مئی اور جون کے درمیان 8.5 کروڑ ویکسین سربراہ کرنے کے موقف میں ہیں۔ اس میں سے 50 فیصد ویکسین مرکزی حکومت کو الاٹ کی جاتی ہے ۔ ریاستوں اور خانگی دواخانوں کو فی کس دو کروڑ ویکسین فراہم کئے جائیں گے جو کسی بھی ریاست کیلئے موجودہ صورتحال میں ناکافی ہے۔ کورونا کی شدت کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے 18 سال سے زائد عمر کے افراد کو ویکسین کا فیصلہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں ریاستی حکومتوں پر ویکسین کا بوجھ اور ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ہے۔