امبیڈکر جینتی سے ضلع نرمل کے اننتا پیٹ گرام پنچایت میں نئی روایت کا آغاز
حیدرآباد ۔ 15 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : معاشرے میں آج بھی ایسے افسوسناک واقعات سامنے آتے ہیں جہاں بیٹی کی پیدائش پر ماؤں کو ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ کہیں انہیں قتل کردیا جاتا ہے ۔ تو کہیں نومولد بچیوں کو کچرے میں پھینک دیا جاتا ہے ۔ کئی مائیں گھریلو جھگڑوں اور دباؤ کے باعث خاموشی سے یہ دکھ سہنے پر مجبور ہوجاتی ہیں ۔ لیکن ایک خاتون سرپنچ نے بیٹی کی پیدائش کو بوجھ نہیں بلکہ خوشی اور امید کے طور پر منانے کی نئی روایت قائم کی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق 14 اپریل 2026 کو امبیڈکر جینتی کے موقع پر ضلع نرمل کے اننتا پیٹ گرام پنچایت کی سرپنچ ایم سنیتا نے ایک منفرد پروگرام کا آغاز کیا ہے ۔ اس اسکیم کے تحت گاوں میں پیدا ہونے والی ہر بچی پر اس کی ماں کو پانچ ہزار روپئے بطور تحفہ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ جب کہ بچی کے روشن مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے دو چندن کے پودے بھی فراہم کئے جارہے ہیں جو آگے چل کر مالی فائدہ کا ذریعہ بن سکتے ہیں ۔ سرپنچ ایم سنیتا نے اس موقع پر کہا کہ اس اقدام کا مقصد صرف مالی مدد فراہم کرنا نہیں بلکہ بیٹیوں کے تئیں معاشرتی سوچ بدلنا اور انہیں تحفظ کا احساس دینا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر بچی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہے اور اس کی پیدائش خوشی کا باعث ہونی چاہئے نہ کہ غم کا ۔ گاوں والوں نے اس اقدام کو بے حد سراہا اور سرپنچ کی اس کوشش کو قابل تقلید قرار دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قدم نہ صرف ماؤں کو حوصلہ دے گا بلکہ بیٹیوں کی قدر و منزلت کو بھی بڑھائے گا ۔ یہ مثال اس بات کا واضح پیغام دیتی ہے کہ اگر نیت نیک ہو تو چھوٹے چھوٹے اقدامات بھی بڑے سماجی انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں ۔۔ 2/m/b