بیٹے سے انصاف پانے کیلئے 82 سالہ خاتون انتخابی میدان میں

   

جائیداد کیلئے بیٹے نے مقدمہ دائر کیا تو خاتون نے جگتیال سے پرچہ نامزدگی داخل کردیا
حیدرآباد 8 نومبر ( سیاست نیوز ) انتخابات میں کچھ لوگ سیاسی جماعتوںا ور سیاستدانوں سے شکایات کی وجہ سے حصہ لیتے ہیں ۔ بسا اوقات کچھ حلقوں میں درجنوں سے زائد امیدوار میدان میں اترجاتے ہیں تاکہ اصل امیدوار کیلئے مشکل صورتحال پیدا کی جاسکے ۔ تاہم تلنگانہ کے جگتیال اسمبلی حلقہ میں ایک معمر خاتون نے اپنے بیٹے سے ناراضگی کی وجہ سے انتخابات میں مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ضعیف خاتون شیاملا نے جگتیال سے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے ۔ 82 سالہ خاتون کا تعلق گنگادھر منڈل سے ہے اور اس کا مقصد یہ نہیں کہ رکن اسمبلی بن کر قانون ساز اداروں تک پہونچ جائے بلکہ وہ چاہتی ہے کہ اپنے بیٹے سے ہونے والی تکلیف سے دنیا کو واقف کروایا جائے ۔ ایک مجاہد آزادی مرلیدھر راؤ کی بیوہ شیاملا نے الزام عائد کیا کہ ان کا بڑا بیٹا سری رام راؤ ان کے خلاف مقدمہ بازی کر رہا ہے ۔ اس نے جائیداد میں اضافی حصہ کیلئے مقدمہ دائر کیا ہے جس کے نتیجہ میں وہ ایک کرایہ کے گھر میں مقیم ہے اپنے گھر میں رہ نہیں پا رہی ہے ۔ شیاملا کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ معمر اور ضعیف ہے اس لئے لوگ اسے گھر کرایہ پر دینے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔ حالانکہ اس نے کئی افراد سے رابطہ کیا ہے لیکن کسی نے بھی اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے ۔ سماج کو اس ناانصافی سے واقف کروانے اس نے اپنا پرچہ داخل کیا ہے ۔ اس نے حکام سے کہا کہ اسے اس کا گھر واپس دلانے کیلئے مدد دی جائے ۔ کہا جا رہا ہے کہ اس خاتون کے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد کچھ افراد افہام و تفہیم کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خاتون کا مسئلہ حل ہوجائے اور وہ پرچہ نامزدگی سے دستبرداری اختیار کرلے ۔