بیگم بازار میں اوقافی جائیداد کی پامالی پر عوام برہم

   

ٹی آر ایس کی نیک نیتی پر شبہ، مقامی جماعت کی بے حسی پر اظہار حیرت

حیدرآباد۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے تعلق سے اسمبلی میں چیف منسٹر کا اعلان محض رسمی ثابت ہوگیا اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ چیف منسٹر کے بیان کو ابھی عملی جامہ نہیں پہنایا گیا یا پھر عہدیدار اس بیان کی خاطر نہیں کرتے۔ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ تو دور اب ان کی حرمت بھی پامال کی جارہی ہے، اور یہ سب ریاست کے کسی دور دراز علاقہ میں نہیں بلکہ قلب شہر بیگم بازار علاقہ میں پیش آئے ایک واقعہ سے ثابت ہوگیا جو شہریوں میں ٹی آر ایس پارٹی کی نیک نیتی اور مقامی جماعت کے بے حسی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ فیل خانہ میں آج پیش آئے واقعہ میں شہریوں میں برہمی پیدا ہوگئی اور سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم سے شہریوں نے شدید برہمی اور بے چینی کا اظہار کیا۔ جو شہری کل تک اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے ریاستی حکومت کے اقدام کی سراہنا کررہے تھے وہ آج حکومت پر شدید ناراضگیکا اظہار کررہے ہیں اور ان قائدین کو بھی شدید برہمی کا نشانہ بنایا گیا جو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے جاری بیان کو تاریخی قرار دے رہے تھے ۔ فیل خانہ میں تکیہ کبیر الدین شاہ قبرستان کے داخلہ پر بیت الخلاء کی تعمیر کے بلدیہ کے اقدام سے عوام مشتعل ہوگئے ۔ بلدیہ کے اس اقدام کو حکومت کی اجازت اور وقف بورڈ کی خاموشی نے مسلمانوں میں بے چینی پیدا کردی اور مسلمانوں نے ٹی آر ایس کے علاوہ مجلس پارٹی پربرہمی کا اظہار کیا۔ سوشیل میڈیا کے ذریعہ عوام نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ کافی برہمی اور حکومت کی بدنامی کا سبب بن سکتا ہے۔ تکیہ کبیر الدین شاہ قبرستان کے باب الداخلہ پرٹائیلٹ کی تعمیر کیلئے مقامی بی جے پی کارپوریٹر نے زور دیا اور اس نے نمائندگی کی جس پر بلدیہ کے علاوہ پولیس نے بھی بھرپور تعاون پیش کیا۔ شہر میں اثر و رسوخ اور دبدبہ اور اپنی مرضی کے کام منوانے کے دعویداروں کے خود ٹی آر ایس میں اثر دار مسلم قائدین بھی قبرستانوں اور مساجد کی حرمت کو پامال ہونے سے بچانے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ شہریوں نے اپنے تاثرات میں برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گوشہ محل کا علاقہ حیدرآباد پارلیمانی حلقہ کے تحت آتا ہے۔ اس کے علاوہ 2 ارکان اسمبلی اور 40 کارپوریٹرس کے باوجود قلب شہر میں اوقافی جائیدادوں کے ساتھ من مانی کو روکنا مشکل ہوگیا ہے اور باآسانی تکیہ کبیر الدین شاہ اولڈ فیل خآنہ کے قبرستان کے داخلہ پر ٹائیلٹ تعمیر کرنے میں بلدیہ کامیاب کیسے ہوگئی۔ عوام نے اسی دوران ریاستی وزیر داخلہ اور وقف بورڈ چیرمین کو بھی طنزیہ انداز میں مثالی و بے بس قائد قراردیا اور گذشتہ روز میر پیٹ کے حدود میں قومی شاہراہ کی تعمیر میں وقف جائیدادوں کو ہورہے نقصان پر مداخلت کرنے والے وقف ملازمین کی گرفتاری پر بھی شہریوں نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بورڈ کے اختیارات پولیس سے بھی کم ہوگئے ہیں۔