بی آر ایس، بی جے پی کی بی ٹیم، دونوں پارٹیوں کو مسترد کرنے عوام سے اپیل: سدارامیا

,

   

تلنگانہ میں کانگریس کا اقتدار یقینی، مودی ملک کے جھوٹے وزیر اعظم، کاماریڈی میں جلسہ عام سے چیف منسٹر کرناٹک کا خطاب
حیدرآباد۔/10 نومبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کرناٹک سدارامیا نے بی آر ایس کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ مودی اور کے سی آر پر بھروسہ نہ کریں کیونکہ یہ دونوں کمزور طبقات و اقلیتوں اور غریبوں کے مخالف ہیں۔ سدارامیا نے کے سی آر کو چیلنج کیا کہ وہ کرناٹک کا دورہ کرکے کانگریس حکومت کی ضمانتوں پر عمل آوری کا جائزہ لیں۔ عوام سے وعدوں اور ضمانتوں پر عمل کیلئے حکومت نے جو بجٹ مختص کیا اس کی تفصیل پیش کی جائیں گی۔ سدارامیا نے آج کاماریڈی میں کانگریس کے بی سی ڈیکلریشن کی اجرائی کے بعد جلسہ عام سے خطاب کیا۔ انہوں نے نریندر مودی اور کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں اور بی جے پی و بی آر ایس آپسی مدد کررہے ہیں۔ تلنگانہ سے کے سی آر کی کرپٹ حکومت کے صفائے کی اپیل کرکے سدارامیا نے کاماریڈی اور کوڑنگل سے ریونت ریڈی کی شاندار کامیابی کی پیش قیاسی کی اور کہا کہ کاماریڈی میں کے سی آر کی شکست یقینی ہے۔ بی سی طبقات سے بی جے پی کی دھوکہ دہی الزام عائد کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ مودی کو دلت، اقلیت، غریبوں اور بی سی طبقات کا ہمدرد کہا جارہا ہے جبکہ انہوں نے مذکورہ طبقات کیلئے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی سی طبقات سے ہمدردی کا دعویٰ کرنے والے مودی کابینہ میں بی سی طبقات کی نمائندگی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے قیام سے کسی دلت یا بی سی کو آر ایس ایس کا سربراہ مقرر نہیں کیا گیا۔ اعلیٰ طبقات کو آر ایس ایس کا سربراہ مقرر کیا جاتا ہے۔ سماجی انصاف میں بی جے پی پر ناکامی کا الزام عائد کرکے سدارامیا نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس پر یقین نہ کریں۔ چیف منسٹر کے سی آر کو مخالف دلت، اقلیت اور بی سی طبقات قرار دیتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ تلنگانہ میں بی سی طبقات کے تحفظات کو 34 فیصد سے گھٹاکر 23 فیصد کردیا گیا ہے۔ کے سی آر کرناٹک میں 5 ضمانتوں پر عمل نہ ہونے کا الزام عائد کررہے ہیں جبکہ اقتدار کے پہلے ہفتہ میں 4 ضمانتوں پر عمل شروع ہوچکا ہے اور نوجوانوں سے متعلق اسکیم پر جنوری سے عمل ہوگا۔ سدارامیا نے کے سی آر کو کرناٹک کے دورہ کا چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس برسراقتدار آتے ہی اندرون 100 دن چھ ضمانتوں پر عمل کیا جائے گا۔ تلنگانہ میں کانگریس کو برسراقتدار لانے کی اپیل کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ کانگریس غریبوں، دلت، بی سی اور اقلیتوں کو سماجی انصاف فراہم کرنے میں یقین رکھتی ہے۔ بی آر ایس کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیتے ہوئے سدارامیا نے عوام سے اپیل کی کہ وہ چناؤ میں بی آر ایس اور بی جے پی کو مسترد کرتے ہوئے کانگریس کو آشیرواد دیں۔ سدارامیا نے کے سی آر حکومت کو کرپشن میں ملوث قرار دیا اور کہا کہ دولت کی بنیاد پر کے سی آر اقتدار کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کے سی آر کی دس سالہ بدعنوان حکومت کو زوال سے دوچار کریں ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح رات کے بعد سورج کا طلوع ہونا یقینی ہے اسی طرح تلنگانہ میں کانگریس کا اقتدار یقینی ہے اور عوام کو 30 نومبر کا انتظار ہے۔ انہوں نے پیش قیاسی کی کہ تلنگانہ میں بی جے پی کو 4 تا 5 نشستیں حاصل ہونگی ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کے 100 دوروں کے باوجود بی جے پی امیدواروں کی ضمانت نہیں بچے گی۔ کرناٹک میں وزیر اعظم نے 45 جلسوں اور روڈ شو سے خطاب کیا تھا اور جہاں مودی نے دورہ کیا وہاں کانگریس کو بڑی کامیابی ملی۔ سدا رامیا نے کہا کہ میرے سیاسی کیریئر میں اتنا جھوٹ بولنے والا وزیر اعظم آج تک نہیں دیکھا۔