بی آر ایس اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے مزید اقدامات کریگی

   

علماء، مشائخین، ائمہ و مؤذنین کیساتھ اجلاس، وزیر ٹی ہریش راؤ، الحاج محمد سلیم و دیگر کا خطاب

حیدرآباد ۔ 11 نومبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کی سیکولر ساکھ کو کوئی طاقت متاثر نہیں کرسکتی اور کے سی آر قیادت والی بی آر ایس کے ذریعہ ہی مسلمانوں کی حقیقی ترقی ممکن ہے۔ ان خیالات کا ظہار مسٹر ہریش راؤ نے کیا جو آج یہاں الحجاج محمد سلیم صدرنشین ریاستی حج کمیٹی کی جانب سے منعقدہ اجلاس کو مخاطب تھے۔ اس خصوص میں ریاست بھر سے علماء، مشائخین، ائمہ و مؤذنین، مساجد کے صدور، امام و خطیب کے علاوہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے معروف علمائے کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور جناب سلیم کی قیادت میں علماء مشائخین نے بی آر ایس پارٹی کو اپنی بھرپور تائید کا اعلان کیا اور اپنے اپنے علاقوں میں بی آر ایس کے حق میں کام کرنے اور پارٹی کے حق میں اپنی تائید کو جاری رکھنے کا تیقن دیا۔ مسٹر ہریش راؤ نے علماء مشائخین اور ائمہ مؤذنین کو اس بات کا یقین دلایا کہ بی آر ایس حکومت ان کے مشاہر میں اضافہ کرے گی اور 10 ہزار روپئے مشاہر دیئے جائیں گے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے جاری اقدامات میں مزید اضافہ کیا جائے گا اور پوری سنجیدگی کے ساتھ عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ پورے ملک میں سوائے تلنگانہ کے کسی اور ریاست میں سیکولرازم کی کوئی مثالیں نہیں ملتی۔ جہاں حکومت دیگر طبقات کے مساوی اقلیتوں کی ترقی کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد تلنگانہ کی مثالی ترقی کو روکنے کیلئے جاری سازشوں کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں امن کا قیام اہم مسئلہ تھا لیکن کے سی آر نے ان تمام خدشات اور خوف کو دور کرتے ہوئے امن کیلئے بے مثال عملی اقدامات کو انجام دیا اور ریاست کو فسادات سے پاک رکھا گیا اور ہر وہ سازش کو ناکام بنایا گیا۔ انہوں نے علماء، مشائخین کی تائید پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ بی آر ایس ہر محاذ میں اقلیتوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس موقع پر جناب محمد سلیم صدرنشین ریاستی حج کمیٹی نے کہا کہ مسلمانوںکی حقیقی ترقی صرف بی آر ایس دورحکومت ہی سے ممکن ہے۔ الحاج محمد سلیم نے کہا کہ بی آر ایس وعدوں کی تکمیل کیلئے اپنی شناخت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو سماجی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کیلئے مثالی اقدامات کو انجام دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مسلمان اب وعدہ کرنے اور وعدہ خلافی کرنے والوں سے بخوبی واقف ہوچکے ہیں اور گمراہ کرنے والے بیانات اور کان خوش کرنے والے وعدوں پر کوئی توجہ دینے والے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دورحکومت میں ریاست تلنگانہ نے مثالی ترقی کی ہے اور آج شہر حیدرآباد ترقی میں دوبئی سے بھی آگے بڑھ گیا ہے۔ع
دیگر حکومتوں کے دور میں حیدرآباد 10 کیلو میٹر تک پھیلا ہوا تھا لیکن کے سی آر دورحکومت میں حیدرآباد 100 کیلو میٹر تک وسعت کر گیا ہے اور مثالی ترقی ہوئی ہے۔ حکومت کے اقدامات کے سبب ریاست فسادات سے پاک ہے اور یہاں تلنگانہ میں مذہبی منافرت پھیلانے والوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی قیادت والی دورحکومت نے تلنگانہ میں ہمہ جہتی ترقی کی منزلوں کو طئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کے سبب آج بلارکاوٹ برقی سربراہی جاری ہے اور ہریتاہرم پروگرام کے سبب زیرزمین پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ اس موقع پر صدرنشین اقلیتی مالیتی کارپوریشن امتیاز اسحق، عبدالمقید چندا، جنرل سکریٹری علماء مشائخین، جناب کاشف پاشاہ و دیگر موجود تھے۔ع