عوام دونوں جماعتوں کو بلدی انتخابات میں مسترد کردیں، پرگی میں جلسہ عام سے خطاب
حیدرآباد ۔ 7 فبروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ بلدی انتخابات میں کانگریس کو شکست دینے کیلئے بی آر ایس اور بی جے پی نے ایک دوسرے سے خفیہ اتحاد کرلیا ہے۔ ریاست کے عوام بی آر ایس کو مسترد کردیا ہے جس کے بعد اب یہ جماعتیں ایک دوسرے کے سہارے ریاست میں سیاست کررہی ہیں۔ ضلع وقارآباد کے پرگی میں منعقدہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ عوامی حکومت کے دوسالہ دور میں فلاح و بہبود اور ترقی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکمرانوں کی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہوئے کانگریس حکومت عوامی مفاد میں فیصلے کررہی ہے اور قرضوں کے باوجود کئی فلاحی اسکیمات پر مؤثر طریقے سے عمل کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی میں بی جے پی امیدواروں کو بی فارم دیئے جانے کی صورتحال سامنے آرہی ہے جو دونوں پارٹیوں کے درمیان گٹھ جوڑ کا ثبوت ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی نے کبھی مقامی مسائل کو سنجیدہ طور پر حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ چیف منسٹر نے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کے بی جے پی کے قائدین بلدیاتی انتخابات میں وزیراعظم نریندر مودی کی تصویر دکھاتے ہوئے عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ اگر مقامی سطح پر کام نہیں ہوتا تو عوام سوال کس سے کریں؟۔ چیف منسٹر نے کہا کہ عوام نے 10 سال تک بی آر ایس اور 12 سال تک بی جے پی کو ریاست اور مرکز پر حکمرانی کرنے کا موقع فراہم کیا ہے مگر دونوں ہی جماعتیں ووٹوں کے سوداگر ثابت ہوئے۔ وعدوں کو پورا کرنے عوامی مسائل کو حل کرنے اور فلاح و بہبود کے کام کرنے میں پوری طرح ناکام ہوگئے جس کے بعد تلنگانہ کے عوام نے بی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کردیا۔ آئندہ باری بی جے پی کی ہوگی۔ کانگریس کی حکومت مالی مسائل کے باوجود ایک ایک کرکے عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کررہی ہے۔ حکومت کی کارکردگی سے ریاست کے عوام مطمئن ہیں۔ گرام پنچایت کے نتائج اس کا ثبوت ہے۔ انہیں امید ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں اس سے بھی بہتر نتائج کانگریس کے حق میں آئیں گے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ضلع رنگاریڈی کو ترقی دینے کیلئے سابق چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے چیوڑلہ پراجکٹ کا آغاز کیا تھا اور 50 لاکھ روپئے بھی خرچ کئے گئے تھے لیکن بعد میں کے سی آر کے چیف منسٹر بننے کے بعد اضلاع محبوب نگر اور رنگاریڈی کے آبپاشی پراجکٹس کو نظرانداز کردیا گیا۔ کیا خود کو تلنگانہ تحریک کے قائد ہونے کا دعویٰ کرنے والے قائد کے سی آر کو ترقی روکنا زیب دیتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کالیشورم پراجکٹ ایک بدعنوانی کی علامت بن گیا ہے اور اسی پراجکٹ کی آڑ میں کے سی آر، کے ٹی آر اور ہریش راؤ نے ہزاروں کروڑ روپئے لوٹ کر فارم ہاؤس بنائے اور گوداوری پانی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا گیا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے یقین دلایا کہ کانگریس حکومت گوداوری کا پانی حاصل کرتے ہوئے تانڈور، وقارآباد اور چیوڑلہ جیسے علاقوں کو سرسبز و شاداب بنائے گی اور یہ وعدہ ہر حال میں پورا کیا جائے گا۔2