بی آر ایس کا لوک سبھا انتخابات میں بعض نئے چہروں کو میدان میں اتارنے کا امکان

   

حیدرآباد ۔ 23 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : بھارت راشٹرا سمیتی ( بی آر ایس ) کی جانب سے آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بعض نئے چہروں کو انتخابی میدان میں اتارنے کا امکان ہے ۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی لوک سبھا انتخابات میں بعض حلقوں سے نوجوان امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ دینے پر غور کررہی ہے جب کہ بعض دوسرے حلقوں سے سینئیر قائدین کو ٹکٹ دیا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق بی آر ایس ، کونسل کے چیرمین جی سیکھندر ریڈی کے فرزند جی امیت ریڈی کو نلگنڈہ سے ٹکٹ دے سکتی ہے ۔ عادل آباد کے لیے نئے چہرہ پر غور کیا جاسکتا ہے ۔ جہاں بی آر ایس کو 2019 کے انتخابات میں شکست ہوئی تھی ۔ مبینہ طور پر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بی آر ایس پارٹی نظام آباد میں بی جے پی کے دھرم پوری اروند کے مقابل کسی موزوں نئے چہرہ کی تلاش میں ہے ۔ ذرائع کے مطابق بی آر ایس رکن کونسل کے کویتا کو اس مرتبہ نظام آباد سے انتخابی مقابلہ کے لیے نہیں اتارا جائے گا ۔ ایسی صورت میں پارٹی کے کسی سینئیر قائد یا موجودہ رکن اسمبلی کو نظام آباد سے مقابلہ کرنے کے لیے کہا جاسکتا ہے ۔ بی آر ایس قائدین کا نظریہ ہے کہ سہ رخی مقابلہ میں پارٹی کے لیے نظام آباد سے کامیابی کے لیے بہتر مواقع ہوں گے ۔ اگرچیکہ لوک سبھا انتخابات کے لیے سابق وزراء کے ٹی راما راؤ اور ٹی ہریش راؤ کے نام بھی لیے جارہے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی صدر کے چندر شیکھر راؤ اس سلسلہ میں کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ تاہم موجودہ ارکان پارلیمنٹ جیسے جی رنجیت ریڈی (چیوڑلہ ) ، این ناگیشور راؤ ( کھمم ) ، اور ایم کویتا ( محبوب آباد ) کو پھر پارٹی ٹکٹ دیا جاسکتا ہے اور اس کا زیادہ امکان ہے ۔ سینئیر قائد بی ونود کمار ، جنہیں 2019 کے انتخابات میں کریم نگر لوک سبھا حلقہ سے شکست ہوئی تھی ، پھر مقابلہ کریں گے ۔۔