مخلوط حکومت کی صورت میں بی جے پی یا مجلس تائید کریں گے ۔ تلگو اخبارات کی رپورٹ
حیدرآباد 4 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کی سرگرمیوں کے دوران سنسنی خیز انکشافات منظرعام پر آرہے ہیں حالانکہ ہر سیاسی جماعت اپنی کامیابی کا دعویٰ پیش کررہی ہے لیکن اس دوران حالات پارٹیوں کے درمیان آپسی اتحاد کے الزامات کو تقویت دے رہے ہیں۔ مخالف کو شکست فاش کرنے خود ناکامی حاصل کرنے کیلئے بی جے پی کوشاں ہیں۔ بی آر ایس اور بی جے پی کی ملی بھگت کے کانگریس پارٹی کے الزامات دونوں پارٹیوں کے اقدامات سے درست ثابت ہورہے ہیں اور بی آر ایس و بی جے پی میں درپردہ اتحاد نمایاں طور پر عیاں ہوگیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں اور ان کے اقدامات کا قریبی جائزہ لینے والے افراد بھی بی آر ایس اور بی جے پی میں درپردہ اتحاد کو درست مانتے ہیں؟ چونکہ کانگریس کو اقتدار سے دور رکھنا اور شکست فاش کرنا دونوں ہی جماعتوں کا مقصد بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہیکہ ان دونوں پارٹیوں کے درمیان صرف لفظی جنگ جاری ہے جبکہ عملی اقدامات جو حریفوں کے خلاف ہونے چاہئے وہ دکھائی نہیں دیتے۔ اپنے مخالفین کی کمر توڑنے میں مہارت رکھنے والی بی جے پی موقع ہونے کے باوجود بھی بی آر ایس کے خلاف ان ہتھیاروں کا استعمال نہیں کررہی ہے جو خود اس نے منظرعام پر لایا تھا۔ انتخابی سرگرمیوں اور تشہیر سے سرکردہ قائدین کو بی جے پی نے دور رکھا تو وہیں دوسری طرف بی آر ایس کو کامیاب بنانے کی درپردہ کوشش کی جارہی ہے۔ بی سی طبقات سے ناانصافی کی بات کرتے ہوئے بی سی کا نعرہ بلند کرنے والے قائد ڈاکٹر لکشمن کی اچانک خاموشی ان الزامات کو تقویت دیتی ہے۔ کالیشورم پراجکٹ اور شراب اسکام پر بی جے پی نے خاموشی اختیار کرلی اور اپرٹی کی سرکردہ قائد ڈی کے ارونا مقابلہ سے دور ہیں جبکہ دوسری طرف کانگریس قائدین کے خلاف آئی ٹی کارروائیوں کے ذریعہ انہیں پریشان کردیا گیا اور مالی طور پر کانگریس کو پریشانی میں ڈالنے کیلئے نئے نئے سیاسی حربے استعمال کئے جارہے ہیں اور سب سے اہم جذباتی اور عوام کو بھڑکانے والے جذباتی تقاریر اور جذباتی قائدین کو بی جے پی نے خاموش کردیا اور دونوں جماعتوں بی آر ایس اور بی جے پی کے قائدین صرف ایک دوسرے پر تنقیدوں میں مصروف ہیں اور ان میں حالات کے درمیان پارٹی ہائی کمان نے سرکردہ قائدین کو جن میں ڈاکٹر لکشمن، ڈی کے ارونا، مرکزی وزیر کشن ریڈی، وجئے شانتی، کنڈا ویشویشور ریڈی کو پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا اور بیجے پی پر بی آر ایس کو کامیاب بنانے کیلئے سیاسی حربوں کو استعمال کرنے کے الزامات مضبوط ہوجاتے ہیں تاکہ کٹر سیاسی حریف کانگریس کو اقتدار سے دور رکھا جاسکے۔ تاہم بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان ملی بھگت کے معاہدہ کی اصل وجوہات کا ظاہر ہونا باقی ہے۔ع