بی جے پی ہندوتوا سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کوشاں

   

شیوسینا کے باغی ارکان کی بی جے پی میں شمولیت کے تجربہ کی کامیابی پر ملک گیر سطح پر عمل
حیدرآباد۔26 ۔جون(سیاست نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی شیو سینا میں دراڑ کے ذریعہ ملک میں موجود ان تمام ہندو توا سیاسی جماعتوں کے خاتمہ کی کوشش میں مصروف ہے جو کہ بی جے پی کے ووٹ کی تقسیم کا سبب بن سکتی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نہیں چاہتی کہ ملک میں کوئی اور ایسی ہندو تواسیاسی جماعت باقی رہے جو کہ ملک میں موجود نفرت کے ماحول میں ووٹوں کی تقسیم کا سبب بنے اسی لئے کہا جا رہاہے کہ شیو سینا سے بغاوت کرنے والے تمام ارکان اسمبلی کو نئی سیاسی شناخت دینے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی ان تمام کو بی جے پی میں ضم کرنے کے اقدامات کرسکتی ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے شیوسینا میں بغاوت کے ذریعہ اب ان سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے جو کہ این ڈی اے کا حصہ رہی ہیں یا ہندوتوا کے نظریات کی حامل ہیں۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی جن ریاستو ںمیں فرقہ پرستی کو ہوا دینی ہے ان ریاستوں میں موجود ہندو توا تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کو ختم کرتے ہوئے بی جے پی اپنے متبادل کے طور پر کسی بھی باقی رکھنے کے حق میںنہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شیو سینا کے باغی ارکان اسمبلی کی بی جے پی میں شمولیت یا ان کی علحدہ شناخت بنانے کے بعد اسے بی جے پی میں ضم کرنے کے عمل میں کامیابی کی صورت میں بی جے پی اعلیٰ قیادت دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ یہی کھیل دوبارہ کھیل سکتی ہے تاکہ ہندوتوا کے نام پر چلائی جانے والی کوئی اور دکان باقی ہی نہ رہے جس کے سبب ہندوتوا نظریہ کے حامل رائے دہندوں کے ووٹ منقسم ہونے سے محفوظ رہیں۔ذرائع کے مطابق ملک میں مختلف نام نہاد سیکولر سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جانب سے نرم ہندو توا نظریات کو فروغ دیئے جانے کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک میں ایسی فضاء تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ سیکولر جماعتوں کے مقابلہ میں صرف بھارتیہ جنتا پارٹی ہی باقی رہے اور کوئی طاقت سنگھی رائے دہندوں کے ووٹ تقسیم کرنے کے لئے موجود نہ رہے۔شیوسینا میں بغاوت کرنے والے ایکناتھ شنڈے کا اگر تجربہ کامیاب ہوتا ہے تو ایسی صورت میں بی جے پی کی جانب سے این ڈی اے میں شامل سیاسی جماعتوں اور بی جے پی کے منصوبوں کی کسی وقت حمایت کرنے والی سیاسی جماعتوں پر بھی اسی طرح وار کرنے کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے تاکہ ان سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے استحکام کے ذریعہ ملک میں موجود اکثریتی طبقہ کے ووٹوں کو منقسم ہونے سے بچایا جاسکے کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی صلاح کاروں کا ماننا ہے کہ سیکولر ووٹ اور مخالف بے جے پی ووٹ کبھی متحد نہیں ہوسکتا لیکن اگر مہنگائی اور دیگر مسائل کی بناء پر سیکولر ووٹ متحد ہوتا ہے تو ایسی صورت میں فاشسٹ ووٹوں کو تقسیم سے محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔م