اسٹرے ویکنسی کے ذریعہ اہل امیدواروں کو داخلے دینے پر زور ، آف لائن کونسلنگ کی تجویز
حیدرآباد ۔ 3 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ میں 66 میڈیکل کالجس ہیں جن میں 34 سرکاری اور 32 خانگی میڈیکل کالجس ہیں جہاں ایم بی بی ایس کا کورس چلایا جاتا ہے ۔ جب کہ بی ڈی ایس کے 12 ، بی اے ایم ایس کے 3 ، ہیومیوپیتھی ( بی ایچ ایم ایس ) کے 3 ، بی ایم وائی ایس کا ایک اور بی یو ایم ایس ( یونانی ) کا ایک کالج شامل ہے ۔ ان سب میں اگر دیکھا جائے تو یونانی نظام طب والے زیادہ بے حس ، بے شعور اور فرائض سے غافل ہیں ۔ غفلت میں ان کا ایلوپیتھی ، ایورویدک اور ہیومیو پیتھی والے مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ ان بے چاروں کی خوبی یہ ہے کہ اگر ان سے نا انصافی ہوتی ہے تو محتاط انداز میں مجرمانہ خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ۔ حق تلفی ہوتی ہے بڑی بے حسی و بے بسی کے ساتھ حق تلفی سہہ لیتے ہیں اور جب ان کی سیٹس ( بی یو ایم ایس کی نشستوں ) کو ضائع کردیا جاتا ہے ان کو پر کئے بنا ان نشستوں کا نقصان کردیا جاتا ہے ۔ تب بھی کوئی حرکت نہیں ہوتی نتیجہ میں ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ یونانی کے نام پر جو روٹی روزی کھا رہے ہیں اور حاصل کررہے ہیں وہ جلد اختتام کو پہنچ سکتی ہے ۔ واضح رہے کہ NEET میں اہل امیدواروں کو ایلوپتھی ( ایم بی بی ایس ، بی ڈی ایس ) اور آیوش کے کورس میں داخلے ملتے ہیں ۔ تلنگانہ میں ان داخلوں کی ذمہ داری KNRUHS کو دی گئی ۔ افسوس یہ ہے کہ ہر سال صرف بی یو ایم ایس کی نشستیں خالی جاتی ہیں اور ایس سی ، ایس ٹی زمرہ کو تحفظات کا بہانہ بنایا جاتا ہے جب کہ ایم بی بی ایس ، بی ڈی ایس ، بی اے ایم ایس ، بی ایچ ایم ایس اور بی وائی ایم ایس میں ایس ٹی ، ایس سی زمرہ کے امیدواروں کی عدم دستیابی پر ان کی نشستیں عام زمرہ کے تحت دیگر امیدواروں سے پر کردی جاتی ہیں ۔ حالانکہ KNRUHS کے پراسپکٹس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اگر ایس سی ، ایس ٹی کیلئے محفوظ نشستیں پر نہیں ہوتی ہیں تو انہیں عام زمرہ میں تبدیل کر کے دیگر امیدواروں کو دی جائیں لیکن افسوس کہ گذشتہ سال بھی بی یو ایم ایس کی 19 نشستیں مخلوعہ رہیں اہل امیدواروں کی موجودگی کے باوجود ان نشستوں کو خالی رکھا گیا ۔ ڈاکٹر پی ایم ڈی احمد سابق رکن سنٹرل کونسل آف انڈین میڈیسن کے مطابق اگر اس مرتبہ بھی یونانی نظام طب سے تعلق رکھنے والے خاموشی اختیار کرتے ہیں تو 24 نشستوں کا نقصان ہوگا ۔ اس کی وجہ ہے کہ پہلے راونڈ سے چوتھے ماپ اپ راونڈ تک ایس سی ، ایس ٹی طلبہ ناموں کا اندراج کرواتے ہیں لیکن اڈمیشن نہیں لیتے اس مرتبہ بھی یہی ہوا ہے ۔ سرکاری نظامیہ طبی کالج کے ذمہ داروں بشمول پرنسپل و اساتذہ کے ساتھ KNRUHS کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان خالی سیٹوں کو اہل امیدواروں سے پر کریں ۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ KNRUHS اسٹرے ویکنسی کے تحت یونیورسٹی یا کالج کیمپس میں کونسلنگ کا اہتمام کرے اور جو اہل امیدوار دستیاب رہیں انہیں داخلے دیں ۔ آن لائن کی بجائے آف لائن ( فزیکل کونسلنگ ) ہوتی ہے ۔ بی یو ایم ایس کی مخلوعہ نشستوں کو پر کیا جاسکتا ہے اور یونانی نظام طب کو ناقابل تلافی نقصان سے بچایا جاسکتا ہے ۔ جناب ایم اے حمید ایجوکیشن کونسلر کے ساتھ جناب عبدالرب عارف میڈیکل اکسپرٹ نے بھی اسی طرح کے خیالات ظاہر کئے اور کہا کہ ہر سال اس قسم کے مسئلہ سے بچنے یونانی کونسلنگ الگ کرنی چاہئے ۔ اب چند دن باقی ہیں ۔ اگر یونانی والے مجرمانہ خاموشی اور تساہل کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں تو وہی اس تباہی و بربادی کے ذمہ دار ہوں گے ۔۔