تاملناڈو میں بی جے پی کی ایک نشست کا مطلب اسی کا وزیراعلیٰ

   

عوام بی جے پی اور این ڈی اے سے ہوشیارر ہیں، دو روزہ انتخابی مہم کے اختتام پر اروند کجریوال کی پریس کانفرنس

چینائی،21اپریل ( یو این آئی)عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے تامل ناڈو کے عوام کو بی جے پی اور این ڈی اے سے ہوشیار رہنے کی سخت وارننگ دی ہے ۔ ڈی ایم کے اتحاد کے حق میں دو روزہ انتخابی مہم کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی ایسی پارٹی ہے جو ایک نشست (سیٹ)جیتنے پر بھی اپنا وزیر اعلیٰ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔اروند کجریوال نے تامل ناڈو کے سیاسی شعور کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے عوام نفرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کر دیں گے ، تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ فرض کریں، اگر بی جے پی یہاں ایک بھی نشست جیت جاتی ہے ، تو وہ اپنا وزیر اعلیٰ لانے کا راستہ نکال لیں گے ، بالکل ویسے ہی جیسے انہوں نے بہار میں نتیش کمار کے ساتھ کیا۔ تامل ناڈو کے عوام کو یاد رکھنا چاہیے کہ این ڈی اے کا مطلب صرف بی جے پی ہے ، اے آئی اے ڈی ایم کے اب مکمل طور پر ان کے زیر اثر ہے ۔کجریوال نے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے ساتھ روڈ شو کیا اور انہیں ایک ایسی آواز قرار دیا جو وفاقیت اور جمہوریت پر حملے کے خلاف قومی سطح پر مضبوطی سے کھڑی ہے ۔ انہوں نے دہلی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی بی جے پی کو موقع ملتا ہے ، وہ تعلیم، صحت اور پانی جیسے عوامی فلاحی کاموں کو روک دیتی ہے۔ وزیر اعظم مودی کی جانب سے ڈی ایم کے پر ’موروثی سیاست‘ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کجریوال نے بی جے پی کو آئینہ دکھایا۔انہوں نے سوال کیا کہ امیت شاہ کے بیٹے جے شاہ بی سی سی آئی میں کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے راج ناتھ سنگھ اور دیگر بی جے پی لیڈروں کے بیٹوں اور بیٹیوں کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اندر دیکھنا چاہیے۔ کجریوال نے بی جے پی کو ’’سب سے زیادہ کرپٹ پارٹی‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ملک کے وسائل وزیر اعظم کے دوستوں کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے بی جے پی کے ڈبل انجن حکومت کے نعرے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گجرات میں 30 سالہ اقتدار کے باوجود سڑکیں اور اسکول ابتر حالت میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں بھی بی جے پی اقتدار میں آتی ہے ، ریاست کو تباہ کر دیتی ہے ۔اب کی بار ایس ڈی پی آئی قائد محمدم بارک بہت ہی زوروشور سے اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور عوام کے علاوہ کئی اہم قائدین کی بھی انہیں تائید حاصل ہے جہاں ان کی جیت کو یقینی سمجھا جارہا ہے۔