تاناشاہی کیخلاف آج پٹنہ میں جمع ہونے عوام سے اپیل:لالو یادو

,

   

طلبہ کے مسائل، بے روزگاری اور سیوان میں اے کے-47 سے فائرنگ کیخلاف راج بھون تک مارچ کا اعلان

پٹنہ ۔18؍اگست ( ایجنسیز)راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) نے 19 اگست کو طلبہ کے مسائل، بے روزگاری اور سیوان میں اے کے-47 سے ہوئی فائرنگ کی مخالفت میں راج بھون تک مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی نے نوجوانوں اور طلبہ سے بڑی تعداد میں اس مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ واضح رہے کہ بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد تیجسوی یادو نے پیر کو ’ایکس‘ پر پوسٹ کر کے راج بھون مارچ کا اعلان کیا تھا۔ آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو نے بھی آج ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے بہار حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہار کے طلبہ اور نوجوان پیپر لیک، ناقص تعلیمی نظام، بھرتی کے عمل میں امتیازی سلوک اور بے روزگاری سے تنگ آ چکے ہیں۔لالو پرساد یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھاکہ تمام طلبہ اور نوجوان پیپر لیک، بدحال تعلیمی نظام، جانبدارانہ بھرتی کے عمل اور بے روزگاری سے پریشان ہیں۔ لوٹ کھسوٹ کے نظام سے بنی مغرور حکومت ان کے جمہوری مطالبات کو سننے کے بجائے اے کے-47 سے گولیاں برساتی ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔ اس تاناشاہی کے خلاف تمام لوگ 19 اگست کو پٹنہ میں جمع ہوں۔دوسری جانب تیجسوی یادو نے پیر کو ’ایکس‘ پر حکومت سے کئی تلخ سوالات کیے جن میں انہوں نے پوچھا تھا کہ ’’بہار میں کوئی بھی امتحان بغیر پیپر لیک کے کیوں نہیں ہوتا؟ کیا نوکری میں غیرجانبدارانہ اور شفاف انتخاب ہوتا ہے؟ بہار تعلیمی شعبے میں مسلسل پیچھے کیوں ہے؟ کیا بھرتی کے عمل میں امتیازی سلوک جانبداری نہیں ہوتی؟ ملک کی سب سے نوجوان ریاست میںسب سے زیادہ بے روزگار کیوں ہے؟ جمہوری طریقے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والے طلبہ پر اے کے-47 سے گولیاں کس نے چلوائیں؟‘‘ اپنی پوسٹ میں تیجسوی یادو مزید لکھا کہ ان تمام سوالات کا جواب لینے کے لیے سب نوجوان متحد ہو کر 19 اگست کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں گے اور لوٹ کھسوٹ کے نظام سے بنی حکومت کی جوابدہی طے کریں۔ جے ہند! جے بہار! چھاتر شکتی زندہ باد! یووا شکتی زندہ باد!‘‘