بھوپال: وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں ایک نوجوان کے گلے میں پٹا باندھ کر اس کے ساتھ نازیبا سلوک کرنے اور اسے مبینہ طور پر تبدیلی مذہب پر مجبور کرنے کے معاملے پر آج کہا کہ اس پوری ذہنیت کو ہی کچلا جائے گا۔نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران ڈاکٹر مشرا نے کہا کہ اس معاملے سے جڑے ہر پہلو کی جانچ کی جائے گی۔ جو بھی مذہب تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا ، اس طرح کی غیر انسانی حرکت کرے گا، اس پوری ذہنیت کو کچل دیا جائے گا۔ اس معاملے میں اب تک چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔اسی سلسلے میں انہوں نے کانگریس پر بھی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص کے گلے میں پٹا باندھ کر غیر انسانی فعل کیا گیا، لیکن اس فعل کی مذمت کیلئے کسی بھی کانگریسی لیڈر کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ڈگ وجئے سنگھ نے اتراکھنڈ اور یہاں تک کہ بیرون ملک واقعات پر ٹویٹ کیا، لیکن انہوں نے یہاں کے واقعہ پر کچھ نہیں کیا۔ سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے بھی اس معاملے پر کوئی بات نہیں کی لیکن بلڈوزر کی کارروائی پر ہر کوئی اعتراض کر رہا ہے ۔وزیر داخلہ نے کہا کہ پوری کارروائی قانونی طور پر کی گئی ہے ، لیکن کانگریس خوشامد کی سیاست کر رہی ہے ۔ یہ عوام سمجھ رہی ہے ۔