Saturday , December 16 2017
Home / ادبی ڈائری / تبصرہ

تبصرہ

نام کتاب     :     ٹیگور کے مضامین
ادارہ     :     جامعہ ملیہ اسلامیہ
مبصر     :     پروفیسر مجید بیدار
ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا کی زبانوں میں بے شمار تخلیق کار اور ادیب پیدا ہوئے ، جنہوں نے نثر اور شاعری کے ذریعہ اہم خدمات انجام دیتے ہوئے انسانیت کو راہ راست پر لانے کی جد و جہد جاری رکھی ۔ ایسے ہی چند نمائندہ ہندوستانی مضمون نگاروں میں رابندر ناتھ ٹیگور کا شمار ہوتا ہے جنھوں نے افسانوی نثر ہی نہیں بلکہ غیر افسانوی نثر اور شاعری کے ذریعے ایسے خیالات پیش کئے ، جن میں انسانیت کی صلاح و فلاح کے لئے کارآمد مشورے موجود ہیں ۔ بنگالی زبان میں عمدہ ادب پیش کرنے اور شاعری کی روایت کو گیتوں کے ذریعے الہامی بنانے والے ایک اہم تخلیق کار کی حیثیت سے رابندر ناتھ ٹیگور کی خدمات ہمہ گیر ہیں ، چنانچہ ایسی ہی خدمات کے صلہ میں ان کے گیتوں کی کتاب ’’گیتانجلی‘‘ کو 1913ء میں نوبل پرائز سے نوازا گیا ۔ ہندوستان کی تمام زبانوں میں واحد اور بنگالی کے نامور مصنف کی تحریروں میں چھپے ہوئے راز اور ان کی ہمہ گیری کو نمایاں کرنا وقت کی ضرورت تھی ۔ جسے شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی سے وابستہ افراد نے محسوس کیا اور حکومت ہند کے شعبۂ ثقافت کی امداد کے ذریعے ’’ٹیگور ریسرچ اینڈ ٹرانسلیشن اسکیم‘‘ کی بنیاد رکھی ، جس کے تحت رابندر ناتھ ٹیگور کی پیش کردہ تمام تصانیف کو اردو میں منتقل کرنے اور جن تصانیف کی اشاعت سابق میں عمل میں لائی جاچکی ہے ، ان پر نظرثانی کرکے دوبارہ اشاعت پر خصوصی توجہ دی گئی ۔ اس اسکیم کے تحت مختصر لیکن جامع انداز میں صرف 14 مضامین کی نمائندگی کرنے والی کتاب ’’ٹیگور کے مضامین‘‘ کی اشاعت عمل میں لائی گئی ہے ، جس کا انتساب ’’رابندر ناتھ ٹیگور کے مترجمین کے نام‘‘ معنون کرکے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اردو کے مترجمین نے ٹیگور کے ادب ، فلسفے اور افکار کو دوسری زبانوں میں منتقل کرکے نہ صرف ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کو فروغ دینے کا حق ادا کیا ہے بلکہ انسان دوستی ، سیکولر اقدار اور روشن خیالی کو مستقبل میں نمایاں کرنے کی جد وجہد میں حصہ بھی لیا ہے ۔ کئی خوبیوں اور ترجمے کی صلاحیتوں سے مالا مال یہ کتاب سادہ اور پُرکار سرورق سے مالا مال ، خوبصورت جلد اور عمدہ طباعت کی بھرپور نمائندگی کرتی ہے ۔ کتاب کا حرف آغاز اسکیم کے کوآرڈینیٹر پروفیسر شہزاد انجم نے تحریر کیا ہے ۔ جس کے ذریعہ ٹیگور کے مضامین کی ہمہ گیری اور ان کے ذریعہ ذہنی نشو و نما کے مشرقی انداز کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انہوں نے واضح طور پر ثابت کیا ہے کہ ہندوستان کو جدید اور ترقی یافتہ بنانے میں تہذیبی قدروں اور اخوت اور اتحاد کے علاوہ اعلی ظرفی اور صبر و استقلال کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ٹیگور کے مضامین میں ایسے ہی افکار کی جولانیاں ٹھاٹیں مارتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ غرض ٹیگور کی مضمون نگاری اور ترجمے کی اسکیم کے جائزے کے بعد پروفیسر شہزاد انجم نے ٹیگور کے منتخب مضامین کا انگریزی سے اردو میںترجمہ کرنے پر ادیبوں اور مترجموں کو مبارکباد پیش کی ہے ۔ بڑی خوش آئند بات یہ ہے کہ ٹیگور کے مضامین کے اردو میں ترجمہ کرنے والے تمام ترجمہ نگار ہندوستان کی اہم جامعات سے وابستہ ہیں ، اس لئے ان کے ترجموں سے متعلق کوئی حرف آرائی نہیں کی جاسکتی ۔ قاضی عبید الرحمن ہاشمی نے ٹیگور کے تین مضامین ’’ہندوستان میں قومیت‘‘  ، ’’قومیت کا مغربی تصور‘‘ اور ’’بدی کا مسئلہ‘‘ کو اردو میں منتقل کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے ۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر محمد ظفر الدین اور ڈاکٹر محمد خالد مبشر الظفر نے ٹیگور کے دو دو مضامین ترجمہ کئے ہیں ۔ ان میں ’’گاندھی : ایک عظیم شخصیت‘‘ اور ’’حسن کا احساس‘‘ اہمیت کے حامل ہیں ۔ خالد مبشر نے ’’بدلتا ہوا زمانہ‘‘ اور ’’نفس کا مسئلہ‘‘ کو اردو میں منتقل کرنے کا فریضہ انجام دیا ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے دو اساتذہ خالد جاوید اور ارجمند آرا نے ایک ایک مضمون ’’آرٹ کیا ہے‘‘ اور ’’ہندوستانی طلبہ اور مغربی اساتذہ‘‘ کے ترجمے کے فرائض انجام دیئے ہیں ۔ ڈاکٹر سید محمود کاظمی اور ڈاکٹر فہیم الدین احمد کا تعلق شعبۂ ترجمہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، حیدرآباد سے انتہائی گہرا ہے ۔ محمود کاظمی نے دو مضامین ’’اساتذہ سے خطاب‘‘ اور ’’ہندوستان کا مسئلہ‘‘ جبکہ فہیم الدین احمد نے ’’تہذیب اور ترقی‘‘ کے علاوہ ’’طلبا کے نام‘‘ جیسے مضامین کو انگریزی سے اردو میں منتقل کیا ہے ’’ٹیگور کے مضامین‘‘ کتاب کا آخری مضمون انوارالحق کا ترجمہ شدہ ’’آزادی کی حقیقت‘‘ کے عنوان سے کتاب میں شامل کیا گیا ہے ۔ غرض ضرورت اس بات کی تھی کہ پروفیسر شہزاد انجم اپنے حرف آغاز کے دوران ان حقائق کی وضاحت کردیتے تاکہ مختلف عہد میں ٹیگور کی فکر میں اثر انداز ہونے والے حالات کو بھی سمجھنے کا موقع مل جاتا ۔ اس کمی کی وجہ سے ٹیگور کی فکر کے عہد بہ عہد ارتقاء کو سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے ۔ اس مختصر سی کمی کے باوجود یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مترجموں نے ٹیگور کے مضامین کو اردو میں منتقل کرتے وقت برجستگی ، روانی اور بے ساختگی ، روانی اور بے ساختگی کے علاوہ تسلسل اور زبان کے فطری بہاؤ کو پیش نظر رکھا گیا ہے ، ہر مضمون گو کہ ترجمہ ہونے کی نشاندہی کرتا ہے لیکن اصل مضمون کا گماں ہوتا ہے ۔ ان مضامین میں ٹیگور نے مسرت سے زیادہ بصیرت کے گوشوں کو نمایاں کرتے ہوئے ہر مضمون میں فکر اور فلسفے کی روایت کو شامل کیا ہے ، تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ یہ مضامین ایسے ہیں جن سے پڑھا لکھا طبقہ ہی استفادہ کرسکتا ہے ۔ ٹیگور کے مضامین کی فطری خصوصیت ایسی ہے کہ ان کی تحریروں سے پڑھا لکھا طبقہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ، غرض ٹیگور کے نمائندہ مضامین کو اردو میں ترجمے کے ساتھ کتابی شکل میں شائع کرنے پر ٹیگور ریسرچ اینڈ ٹرانسلیشن اسکیم ، شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی کو مبارکباد پیش کی جاتی ہے ۔ کتاب کے دو ہزار نسخے شائع کئے گئے ہیں ۔ یہ کتاب بلاقیمت تقسیم کی جارہی ہے ، جسے یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے علاوہ صدر دفتر مکتبہ جامعہ لمیٹڈ ، جامعہ نگر ، نئی دہلی یا پھر ہندوستان میں موجودہ دوسرے کتاب فروشوں کی شاخوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT