بی جے پی کمزور، 40 اسمبلی نشستوں پر کانگریس کو فائدہ کا امکان،بی آر ایس کی بہتر نتائج کیلئے جدوجہد
حیدرآباد ۔3۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کی سیاست میں روزانہ نئی تبدیلیوں کے ذریعہ سیاسی پارٹیوں کے انتخابی امکانات تبدیل ہورہے ہیں۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج پر اگرچہ ریاست کے تمام اضلاع کا اثر ہوتا ہے لیکن جنوبی تلنگانہ اس مرتبہ تشکیل حکومت میں فیصلہ کن رول ادا کرسکتا ہے۔ برسر اقتدار بی آر ایس ، کانگریس اور بی جے پی نے جنوبی تلنگانہ کی 40 نشستوں پر توجہ مرکوز کی ہے لیکن جیسے جیسے رائے دہی کی تاریخ قریب آرہی ہے ، مقابلہ بی آر ایس اور کانگریس کے درمیان دکھائی دینے لگا ہے ۔ جنوبی تلنگانہ میں بی جے پی کا موقف اس لئے بھی کمزور ہوگیا کیونکہ پارٹی کے کئی سرکردہ قائدین انتخابی مقابلہ سے دور ہیں۔ بی جے پی نے نلگنڈہ ، محبوب نگر اور رنگا ریڈی سے تعلق رکھنے والی کئی سینئر قائدین کو ٹکٹ نہیں دیا ہے جس کے نتیجہ میں پارٹی کیڈر میں ناراضگی اور بے چینی کے جذبات دیکھے جارہے ہیں۔ بی جے پی کے سرکردہ قائدین کی خاموشی کا فائدہ راست طور پر کانگرسیس کو ہوسکتا ہے۔ جنوبی تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے اہم قائدین ڈی کے ارونا ، کونڈا وشویشور ریڈی اور جتیندر ریڈی انتخابی مقابلہ سے دور ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ قائدین اسمبلی چناؤ کیلئے اپنی پسند کی نشستوں کی نشاندہی کی تھی لیکن اعلیٰ قیادت نے دیگر قائدین کو امیدوار بناتے ہوئے سینئرس کو نظر انداز کردیا۔ بی جے پی کی موجودہ صورتحال کا فائدہ کانگریس کو پہنچ سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ متحدہ نلگنڈہ ، محبوب نگر اور رنگا ریڈی میں بی آر ایس کا موقف کمزور ہے اور کانگریس کو کم از کم 30 نشستوں پر کامیابی مل سکتی ہے۔چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مخالف حکومت لہرسے نمٹنے کیلئے نہ صرف خود کئی عام جلسوں سے خطاب کیا بلکہ کے ٹی آر اور ہریش راو کو مذکورہ اضلاع پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دی۔ کانگریس کے سرکردہ قائدین ریونت ریڈی ، اتم کمار ریڈی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور جانا ریڈی کا تعلق جنوبی تلنگانہ سے ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ حکومت نے شمالی تلنگانہ کے مقابلہ جنوبی تلنگانہ میں پراجکٹس کی تکمیل پر توجہ نہیں دی جس کے نتیجہ میں عوامی ناراضگی پائی جاتی ہے۔ پالمور رنگا ریڈی آبپاشی پراجکٹ اور یادادری تھرمل پاور پلانٹ مکمل نہیں کیا گیا۔ 2018 ء اسمبلی چناؤ میں محبوب نگر کی 14 نشستوں میں بی آر ایس کو 13 میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ متحدہ محبوب نگر ضلع میں جوپلی کرشنا راؤ کی کانگریس میں واپسی نے بی آر ایس کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ پرینکا گاندھی اور راہول گاندھی نے جنوبی تلنگانہ کے علاقوں میں انتخابی مہم کے ذریعہ پارٹی کے امکانات کو روشن کیا ہے ۔ نلگنڈہ ضلع کی 12 اسمبلی نشستوں میں 2018 ء میں بی آر ایس نے 9 پر کامیابی حاصل کی تھی اور کانگریس کے حصہ میں 3 نشستیں آئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ رنگاریڈی کی 14 نشستوں میں اس مرتبہ کانگریس 8 نستوں پر مضبوط موقف رکھتی ہے جبکہ 2018 ء میں اسے صرف 3 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ مبصرین کے مطابق تلنگانہ میں تشکیل حکومت میں جنوبی تلنگانہ کی اہم حصہ داری رہے گی۔