تعلیمی اسکیمات کو سیاسی رنگ نہ دینے اپوزیشن سے ریاستی وزیر وینکٹ ریڈی کی اپیل

   

حیدرآباد۔/6 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) وزیر عمارات و شوارع کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ ریاست میں انٹگریٹیڈ اقامتی اسکولس کا قیام عوام کیلئے حکومت کی جانب سے دسہرہ کا تحفہ ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وینکٹ ریڈی نے کہا کہ 6 لاکھ سے زائد طلبہ کے تابناک مستقبل کیلئے حکومت نے انٹگریٹیڈ اقامتی اسکولس کا منصوبہ تیار کیا ہے جہاں بہتر تعلیم کے علاوہ بہتر انفرااسٹرکچر سہولتیں موجود رہیں گی۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ گزشتہ دس ماہ میں حکومت نے کئی فلاحی اسکیمات کا آغاز کیا لیکن تعلیم کے شعبہ میں انٹگریٹیڈ اقامتی اسکولس کا قیام غیر معمولی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا طلبہ کو سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں سے محرومی کی صورتحال سے نجات دلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 600 طلبہ کیلئے محض 20 کلاس رومس ہیں اور 20 طلبہ کیلئے ایک ٹائیلٹ بھی نہیں ہے۔ سابق میں کانگریس حکومت نے فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے ذریعہ طلبہ کی مدد کی تھی۔ بی آر ایس نے دس سالہ دور حکومت میں اسکالر شپس اور فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیمات کو نظرانداز کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت انٹگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کے ذریعہ نہ صرف تعلیم کے معیار کو بلند کرنا چاہتی ہے بلکہ ملک کیلئے مثالی اسکولس قائم کئے جائیں گے۔ وینکٹ ریڈی نے اپوزیشن پر ہر اسکیم کو سیاسی رنگ دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کم از کم تعلیم سے متعلق اسکیم کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ انٹگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کی اسکیم کو کامیاب بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تعلیم کے شعبہ کیلئے بجٹ میں نمایاں ترجیحی فنڈز مختص کئے ہیں۔1