11,062 ٹیچرس کے تقررات ، 21,419 ٹیچرس کو ترقی ، اسکولس میں بنیادی سہولتوں کیلئے 100 کروڑ روپئے کا خرچ
حیدرآباد ۔ 3 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے ایک سالہ دور حکومت میں تعلیمی میدان میں انقلابی تبدیلیاں لائی گئی ۔ تلنگانہ کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے 2106 کروڑ کی لاگت سے اسکل یونیورسٹی اور 65 اڈوانسڈ ٹکنالوجی مراکز ( اے ٹی سی ) قائم کئے جارہے ہیں ۔ ریاست میں کانگریس حکومت کی ایک سال کی تکمیل پر تعلیمی شعبہ کی ترقی اور مستقبل کے منصوبوں پر رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں ریاست کے 100 اسمبلی حلقوں میں انٹی گریٹیڈ ریسیڈنشیل اسکولس قائم کرنے کی تفصیلات سے واقف کرایا گیا ہے ۔ حکومت نے ریاستی بجٹ میں محکمہ تعلیم کیلئے مختص رقم میں نمایاں اضافہ کیا ہے ۔ 2024-25 کے بجٹ میں تعلیم کیلئے 21,292 کروڑ مختص کئے گئے جو گذشتہ سال کے بجٹ سے 2,119 کروڑ کا اضافہ ہے ۔ تعلیمی سال کے آغاز سے طلبہ کو اسکولس میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے 1100 کروڑ خرچ کئے گئے ۔ ریاست میں پہلی مرتبہ گرمائی تعطیلات کے بعد اسکولس کے احیاء کے دن ہی طلبہ کو یونیفارمس اور کتابیں فراہم کئے گئے ۔ دو دہوں سے زیر التواء ٹیچرس کیلئے ترقیاتی اقدامات کئے گئے ۔ چیف منسٹر کی دلچسپی سے قانونی رکاوٹوں کو دور کرکے 21,419 ٹیچرس کو ترقی دی گئی ۔ ڈی ایس سی کے ذریعہ 55 دنوں میں 11,062 ٹیچرس کے تقررات کئے گئے ۔ سرکاری اسکولس میں طلبہ اور ٹیچرس کی تعداد کو مساوی کیا گیا ۔ بی سی ۔ ایس سی ۔ ایس ٹی اور اقلیتی طلبہ کے ہاسٹلس کو ایک ہی مقام پر لانے 20 تا 25 ایکر اراضیات پر نئی عمارتیں تعمیر کرکے انٹی گریٹیڈ ریسیڈنشیل اسکولس کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے ۔ قدیم زمانے کے سرٹیفیکٹ کورسیس پر مشتمل 65 آئی ٹی آئیز کو 2106 کروڑ کے مصارف سے عصری تکنیکی مراکز (ITC) میں تبدیل کیا گیا ۔ اکیڈیمک کورسیس اور کمپنیوں کے ضروریات کی تکمیل کو یقینی بنانے ینگ انڈیا اسکلس یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ 2