تلنگانہ اسمبلی کے باہر خاتون ارکان اسمبلی کے خلاف تذلیل آمیز سلوک

   

سبیتا اندرا ریڈی کے بال پکڑ کر گاڑی میں بٹھایا گیا ، سنیتا لکشما ریڈی کی ساڑھی کھنچی گئی
حیدرآباد ۔ 7 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ قانون ساز اسمبلی اجلاس کے دوران ، اسمبلی کے باہر کافی ہنگامہ آرائی ہوئی ۔ اس دوران بی آر ایس کی دو خاتون ارکان اسمبلی کے خلاف بے رحمانہ رویہ اپنایا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق تلنگانہ اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے پہونچنے والی بی آر ایس کی خاتون نمائندوں کو جب پولیس نے زبردستی اور طاقت کے زور پر روکا تو وہاں شدید افراتفری پھیل گئی ۔ اس پورے ہنگامے کے دوران سابق وزیر داخلہ سبیتا اندرا ریڈی کو گرفتار کرنے کے عمل میں پولیس ملازمین نے بالکل بے دردی کا مظاہرہ کیا ۔ انہیں بالوں سے پکڑ کر زبردستی پولیس گاڑی میں بٹھادیا گیا ۔ اس کے علاوہ ایک اور سابق وزیر سنیتا لکشما ریڈی جب اسمبلی کے اندر داخل ہونے کی کوشش کررہی تھیں تو پولیس اہلکاروں نے ان کی ساڑی کھینچ لی ۔ اس اچانک کارروائی سے وہ صدمے میں آگئی اور میڈیا کے سامنے سڑک پر ہی زار و قطار آنسو بہانے لگیں ۔ اس واقعے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سنیتا لکشما ریڈی نے انتہائی غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن تلنگانہ اسمبلی کی تاریخ کا سب سے سیاہ اور شرمناک ترین دن ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ہم تو مرد قائدین کی طرح سیاہ ٹی شرٹ بھی نہیں پہنی تھیں ۔ لیکن جب ہم نے پولیس سے بلاوجہ روکنے کی وجہ طلب کی تو انہوں نے ہمارے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا ۔ دوسری جانب سبیتا اندرا ریڈی نے شدید برہمی ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا اپوزیشن اور خواتین کو جمہوری ملک میں احتجاج کرنے یا ایوانوں میں داخل ہونے کا حق حاصل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے کارروائی کے دوران خواتین کا بھی خیال نہیں کیا ۔ وحشیانہ طاقت کا استعمال کیا جس کی وہ سخت مذمت کرتی ہیں ۔۔ 2/m/b