خواہشمندوں میں شدید ناراضگی، چیف منسٹر کی عدم توجہ، غیر سرکاری تنظیموں کا لائحہ عمل
حیدرآباد۔25۔ستمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی اقلیتی کمیشن کی تشکیل جدید کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے اقدامات نہ کئے جانے کی صورت میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی غیر سرکاری تنظیموں نے عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اقلیتی کمیشن کی تشکیل کے سلسلہ میں اختیار کئے جانے والے موقف سے پائی جانے والی ناراضگی کے بعد اب کہا جا رہاہے کہ حکومت کو اقلیتی اداروں پر صدورنشین کی نامزدگی اور ان کی تشکیل کے لئے عدالت سے رجوع ہونا پڑرہا ہے۔ حکومت نے جاریہ سال کے وسط میں جو منصوبہ تیار کیا تھا اس کے مطابق حکومت نے سابقہ کمیشن کی معیاد میں توسیع کا فیصلہ کیا تھا لیکن عہدیداروں کی جانب سے سابقہ کمیشن کی مخالفت کے بعد اس منصوبہ کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے زیر التواء رکھا لیکن زائد از 9 ماہ گذر جانے کے باوجود حکومت کی جانب سے کمیشن کی تشکیل کے سلسلہ میںکسی قسم کی پیشرفت نہ کئے جانے پر غیر سرکاری تنظیموں کے ذمہ داروں نے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے مطابق اقلیتی کمیشن کی تشکیل جدید کے لئے تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست داخل کرنے پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔حکومت نے ریاست میں اقلیتی کمیشن کی تشکیل کے سلسلہ میں ماہ جولائی کے دوران موصول ہونے والی سفارشات اور نمائندگی کی بنیاد پر سابقہ اقلیتی کمیشن میں ایک رکن کی تبدیلی کے ساتھ معیاد میں توسیع دینے کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کے مطابق محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار سابقہ کمیشن کی دوسری معیاد کو توسیع دینے کے حق میں نہیں ہیں اسی لئے ان کی جانب سے کی جانے والی مخالفت کے بعد معاملہ کو زیر التواء رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اس فیصلہ کو تین ماہ گذرنے کے باوجود اس پر کسی طرح کی کاروائی نہ کئے جانے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ریاستی حکومت کو اقلیتوں کے معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ م