وزیر اعظم نریند رمودی کے عوام سے جھوٹے وعدے ۔ تین انتخابی جلسوں سے کے سی آر کا خطاب
حیدرآباد : /7 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوٹ کیس کے ساتھ انتخابی میدان میں اترنے والے کانگریس امیدواروں سے چوکنا رہیں ۔ مذاق مذاق میں ووٹ دیا گیا تو زندگی تماشہ بن جائے گی ۔ عوام کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوجائے گا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے آج تین اسمبلی حلقوں چتور ، منتھنی اور پداپلی میں بی آر ایس جلسوں سے خطاب میں کہا کہ گزشتہ 100 سال میں بی آر ایس کے 10 سالہ حکومت میں ہی تلنگانہ میں امن و امان اور سکون رہا ہے ۔ نہ کوئی فسادات ہوئے اور نہ کرفیو نافذ کیا گیا ہے ۔ کانگریس حکومت میں فرقہ وارانہ فسادات ہوا کرتے تھے ۔ انہوں نے بحیثیت چیف منسٹر غنڈہ گردی کو ختم کردیا ۔ لا اینڈ آرڈر پر توجہ دی جس سے ریاست میں جہاں ترقی ہوئی وہیں روزگار کے مواقع فراہم ہوئے ۔ تلنگانہ کو فلاحی اسکیمات کی جنت میں تبدیل کردیا گیا ۔ عوام کو 24 گھنٹے برقی سربراہ کی گئی ۔ زرعی انقلاب برپا کیا گیا ۔ ہر ضلع میں میڈیکل کالج قائم کیا جارہا ہے ۔ اضلاع کی تنظیم جدید کرکے 10 اضلاع کو 33 اضلاع میں تقسیم کیا گیا جس سے سرکاری نظم و نسق عوام کی دہلیز پر پہنچ گیا ہے ۔ عوام غور کریں انہیں 24 گھنٹے برقی چاہئیے یا 3 گھنٹے ۔ 24 گھنٹے برقی کیلئے بی آر ایس اور 3 گھنٹے کیلئے کانگریس کو ووٹ دیں ۔ انتخابات میں کانگریس قائدین نوٹوں کے سوٹ کیس کے ساتھ میدان میں اتررہے ہیں ۔ چند ہزار روپئے کی لالچ میں تلنگانہ کے عوام اپنے 5 سال کا مستقبل خراب نہ کریں ۔ بی آر ایس کے ارکان اسمبلی ہمیشہ عوام کے درمیان میں رہیں گے ۔ عوام بلاجھجک مسائل کی یکسوئی کیلئے ان سے رجوع ہوسکتے ہیں ۔ اگر سوٹ کیس سے عوام کے درمیان پہنچنے والے قائدین پر بھروسہ کیا گیا تو وہ انتخابات کے بعد عوام کو کبھی دستیاب نہیں رہیں گے ۔ گول مال کانگریس پر بھروسہ کیا گیا تو زندگی گول مال ہوجائے گی ۔ علحدہ تلنگانہ حاصل کرنے والی بی آر ایس نے 10 سال میں ریاست کی ترقی اور بہبود کیلئے جو کام کیا ہے اس کی ملک بھر میں کہیں بھی نظیر نہیں ملتی ۔ کانگریس کو ووٹ نہ دیں بلکہ ان کی ضمانت ضبط کرکے ہوئے بی آر ایس امیدواروں کو کامیاب بنائیں ۔ وزیراعظم نریندر مودی تلنگانہ کے دورہ پر پہنچ رہے ہیں ۔ جھوٹے وعدے کرکے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔ گزشتہ 10 سال میں مودی نے تقسیم آندھرا پردیش کے وعدوں پر عمل نہیں کیا ۔ فنڈز کی اجرائی ، اسکیمات کی فراہمی ، تعلیمی اداروں کے مختص کرنے میں مرکزی حکومت نے تلنگانہ سے سراسر نہ انصافی کی ہے ۔ ایسی کانگریس اور بی جے پی کی تلنگانہ کو ضرورت نہیں ہے ۔ ریاست میں تیسری مرتبہ بی آر ایس بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی جس کے بعد عوام کو کئی راحتیں دی جائیں گی ۔