تلنگانہ لائف سائنسیس میں عالمی مرکز، الیکٹرک گاڑیوں میں نمایاں مقام

,

   

شہر کے اطراف مینو فیکچرنگ ہب کے قیام سے روزگار میں اضافہ، بائیو ایشیا 2025 کانفرنس، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب

حیدرآباد۔/25 فروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد لائف سائنسیس کے دارالحکومت کی حیثیت سے دنیا میں اپنی شناخت بناچکا ہے۔ بائیو ایشیا کانفرنس کے انعقاد سے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر سے نامور ادارے تلنگانہ کی طرف دیکھ رہے ہیں تاکہ یہاں ہیلت کیئر سیکٹر میں سرمایہ کاری کی جاسکے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج حیدرآباد میں بائیو ایشیا 2025 کانفرنس کا افتتاح کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کئی عالمی نامور کمپنیاں ہیلت کیئر، لائف سائنسیس اور بائیو ٹیک شعبہ میں حیدرآباد میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرچکے ہیں۔ ریاستی حکومت ریسرچ اور نئی تخلیقات کی سرگرمیوں میں مشغول اداروں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع مستحکم کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بڑی تعداد میں سائنٹسٹس، ٹکنالوجسٹس اور انجینئرس تیار ہورہے ہیں۔ ریاستی حکومت آئندہ 10 برسوں میں تلنگانہ کی معیشت کو ٹریلین ڈالر میں تبدیل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے اور حیدرآباد کے اطراف شہری علاقوں میں نئے پراجکٹس قائم کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر نے فیوچر سٹی اور آرٹیفیشل انٹلیجنس سٹی کا حوالہ دیا اور کہا کہ کئی عالمی اداروں نے سرمایہ کاری سے اتفاق کیا ہے۔ حیدرآباد ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے دارالحکومت کے طور پر اپنی شناخت بنارہا ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت تلنگانہ میں ہوئی ہے۔ ریاستی حکومت نے عنقریب 3000 الیکٹرک آر ٹی سی بسوں کو متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آوٹر رنگ روڈ اور ریجنل رنگ روڈ کے درمیان مینوفیکچرنگ ہب کے قیام کا منصوبہ ہے جو دنیا کا سب سے بڑا مینوفیکچرنگ سنٹر رہے گا۔ حکومت نے دنیا بھر سے سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔ چیف منسٹر نے حیدرآباد کے اطراف انفرااسٹرکچر سہولتوں کی ترقی کا حوالہ دیا اور کہا کہ آوٹر رنگ روڈ اور ریجنل رنگ روڈ کے اطراف ڈیولپ کلسٹرس قائم کئے جائیں گے۔ ریاستی حکومت میگا ڈرائی پورٹ کی ترقی کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ آندھرا پردیش میں بندرگاہ سے ریل اور روڈ ٹرانسپورٹ سہولتوں کو مربوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بائیو سائنسیس، بائیوٹیک اور لائف سائنسیس میں حیدرآباد دنیا کے بہترین ایکو سسٹم کے طور پر ترقی حاصل کررہا ہے۔ مینوفیکچرنگ ، اسکل ڈیولپمنٹ، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ میں سرمایہ کاری کے مواقع کے سبب حیدرآباد عالمی سطح پر اپنی شناخت بناچکا ہے۔ امریکہ کی مشہور ایمجن کمپنی نے حیدرآباد میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت عالمی اداروں کو سرمایہ کاری کے ذریعہ شراکت کی دعوت دیتی ہے۔ حکومت نے صنعتی پالیسی کو آسان بنایا ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم میں تلنگانہ نے 1.80 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کے معاہدات کئے ہیں۔ حکومت نے ایک سال میں 50 ہزار سے زائد تقررات عمل میں لائے۔ گذشتہ سال 40 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری لائف سائنسیس کے شعبہ میں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فارما ویلیجس کی ترقی کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ 5 لاکھ نئے روزگار پیدا کئے جاسکیں۔ گرین فارما سٹی اور فیوچر سٹی پراجکٹس پر تیزی سے عمل کیا جارہا ہے۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی سریدھر بابو نے کہا کہ حیدرآباد میں عالمی معیار کی لائف سائنسیس یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے جو سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبہ میں مستقبل کے ماہرین کو تیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ سائنسی ترقی اور تحقیق کا عالمی مرکز بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لائف سائنسیس کے شعبہ میں 51 ہزار افراد کو راست اور 1.5 لاکھ افراد کو بالواسطہ روزگار حاصل ہوگا۔ عالمی فارما پروڈکشن میں تلنگانہ کی حصہ داری کا ذکر کرتے ہوئے سریدھر بابو نے کہا کہ دنیا کی 20 فیصد جنریک ادویات تلنگانہ میں تیار کی جاتی ہیں اس کے علاوہ 40 فیصد عالمی ویکسین کی تیاری تلنگانہ میں ہوئی ہے۔ ہر سال 5 بلین ڈالر کے فارما پراڈکٹس 200 سے زائد ممالک کو برآمد کئے جاتے ہیں۔1