کوئلہ کی کانوں کا آکشن روکنے وزیراعظم کو چیف منسٹر کے سی آر کا مکتوب،ملازمین کی ہڑتال کا آغاز
حیدرآباد۔9۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) سنگارینی کالریز مزدور یونینوں کی جانب سے ہڑتال کے اعلان پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے چار کول بلاکس کی نیلامی روک دینے کی درخواست کی ۔ مزدور یونینوں نے تین روزہ ہڑتال کا آغاز کیا ہے ۔ سنگارینی کالریز کے 4 کول بلاکس کو فروخت کرنے کا مرکزی حکومت نے فیصلہ کیا ہے جس کی ورکرس کی جانب سے مخالفت کی جارہی ہے۔ وزیراعظم سے اپیل کی گئی کہ کول بلاکس کی نیلامی سے متعلق مرکزی وزارت کوئلہ کی تجویز کو مسترد کیا جائے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سنگارینی کالریز کمپنی سالانہ 65 ملین ٹن کوئلہ کی پیداوار کے ساتھ تلنگانہ ، آندھراپردیش ، مہاراشٹرا ، کرناٹک اور ٹاملناڈو کے تھرمل پاور پلانٹس کی کوئلہ کی ضروریات کی تکمیل میں اہم رول ادا کر رہی ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد 2014 ء میں تلنگانہ میں برقی کی مانگ زیادہ سے زیادہ 56661 میگا واٹ تھی جبکہ مارچ 2021 ء تک برقی کی مانگ میں 13688 میگا واٹ کا اضافہ ہوگیا ۔ وزیراعظم کو مکتوب میں چیف منسٹر نے بتایا کہ تلنگانہ میں تھرمل پاور کی پیداوار کے لئے کوئلہ کی بلا وقفہ سربراہی ناگزیر ہے۔ سنگارینی کی ضروریات کے پیش نظر حکومت نے کانکنی کے لئے کئی لائسنس جاری کئے ہیں۔ مرکزی وزارت کوئلہ نے بھی کانکنی کے حق میں منظوری دی تھی ۔ چیف منسٹر نے وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ مرکزی وزارت کوئلہ کو ہدایت دیں کہ مرکزی وزارت کے تحت آنے والے 4 کول بلاکس کی نیلامی کو روک دیں۔ اس فیصلہ سے سنگارینی کے دائرہ اختیار کے تحت کوئلہ کی ضروریات پر منفی اثر پڑے گا ۔ چیف منسٹر نے چاروں بلاکس کو سنگارینی کمپنی کو الاٹ کرنے کی تجویز پیش کی ۔ ر