طبی سہولتوں میں بہتری لانے کے اقدامات، کیرالا اور مہاراشٹرا حکومتوں سے تبادلہ خیال
حیدرآباد: مرکزی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کی تیسری لہر کے انتباہ کے ساتھ ہی ریاستی حکومت تلنگانہ نے جون تا اگسٹ کے درمیان تیسری لہر اور اس لہر کے دوران بچوں کے متاثر ہونے کے خدشات کے تحت طبی سہولتوں میں بہتری لانے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت کے محکمہ صحت کے عہدیداروں نے کیرالہ اور مہاراشٹرا کی حکومت کے عہدیداروں کے ساتھ آن لائن تبادلہ خیال شروع کردیا ہے تاکہ تیسری لہر کے دوران بچوں کو متاثر ہونے سے روکنے کے اقدامات کو بڑے پیمانے پر مکمل کیا جاسکے۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے عہدیداروں کو ہدایات جاری کی جاچکی ہیں کہ وہ ریاست میں بچوں کی نگہداشت والے دواخانوں اور بچوں میں کورونا وائرس کی صورت میں ان کے علاج کے لئے بہتر انتظامات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں ۔ حکومت کی جانب سے ہدایات موصول ہونے کے بعد محکمہ صحت کے عہدیدارو ںکی جانب سے ریاست میں بچوں کے دواخانوں میں موجود سہولتوں کو بہتر بنانے کے علاوہ ان کو عصری آلات سے لیس کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیںاور کہا جا رہاہے کہ ریاست تلنگانہ کو تیسری لہر سے نمٹنے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اس کیلئے اقدامات کو تیز کردیا گیا ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے متعلق بتایا جا رہاہے کہ جون تا اگسٹ کے دوران تیسری لہر کے خدشات کو نظر میں رکھتے ہوئے ماہرین امراض اطفال کی خصوصی تربیت اور ان کے مشورے بھی حاصل کرنے کے اقدامات کو تیز کردیا گیا ہے تاکہ تیسری لہر کی صورت میں حالات کو قابو میں رکھنے میں آسانی ہواور جہاں تک ممکن ہوسکے زیادہ سے زیادہ بچوں کو طبی سہولتوں اور علاج و معالجہ کے اقدامات کئے جاسکیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات میں بچوں کے لئے مخصوص دواخانوں کے قیام اور ان کیلئے خصوصی مراکز کے قیام کے علاوہ انہیں فراہم کی جانے والی ادویات کے اسٹاک کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ دوسری لہر میں جس طرح ادویات اور دیگر علاج و معالجہ کے آلات کی قلت کا سامنا رہا اس سے جو سبق حاصل ہوا ہے اس کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں اور پڑوسی ریاستو ں میںجہاں کورونا وائرس سے بہتر انداز میں نمٹا گیا ہے ان سے تجربات حاصل کئے جا رہے ہیں۔