تلنگانہ میں سیاسی سرگرمیاں

   

Ferty9 Clinic

ریاست تلنگانہ میں سیاسی سرگرمیاں اچانک ہی تیز ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ تقریبا تمام سیاسی جماعتیں یہاں نت نئے انداز سے اپنے وجود کا حساس دلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ قیاس آرائیاں بھی زور پکڑتی جا رہی ہیں کہ برسر اقتدار ٹی آر ایس کی جانب سے اسمبلی کو تحلیل کرتے ہوئے وسط مدتی انتخابات کروائے جائیں گے ۔ ٹی آر ایس نے ابھی تک ایسی قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے اور مختلف گوشوں سے یہ دعوے کئے جا رہے ہیں کہ ریاستی اسمبلی کی معیاد پوری ہوگی اور انتخابات وقت مقررہ پر ہی کروائے جائیں گے ۔ تاہم حکومت جس طرح سے فیصلے کر رہی ہے اور ریاست میں جو سیاسی منظر نامہ بدلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ایسے میں وسط مدتی انتخابات کی قیاس آرائیوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ ٹی آر ایس کی جانب سے حال ہی میں ہزاروں سرکاری نوکریوں پر بھرتی کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اس اعلان کو بھی انتخابات کی تیاریوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ دلت بندھو اسکیم کیلئے بھاری فنڈ بجٹ میں فراہم کیا گیا ہے ۔ دوسرے طبقات کو بھی خوش کرنے کیلئے حکومت اقدامات کر رہی ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ قومی سطح کی سیاست میں سرگرمی دکھاتے ہوئے ریاست کے سیاسی کینوس کو وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بی جے پی نے بھی ریاست میں اپنی سرگرمیوں میں تیزی پیدا کردی ہے ۔ حالیہ پانچ ریاستوں کے انتخابات میں بی جے پی چار ریاستوں میں اپنی حکومت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئی ہے ۔ اس سے بھی پارٹی کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ ریاست کے چار ضمنی انتخابات میں دو میں بی جے پی کامیاب ہوئی تھی ۔ اس سے بھی پارٹی کیڈر میں جوش و خروش پیدا ہوا ہے ۔ کانگریس پارٹی کیلئے حالات کبھی خوشی کبھی غم جیسے ہیں۔ جب کبھی یہ تاثرپیدا ہونے لگتا ہے کہ پارٹی کیلئے حالات قدرے تبدیل ہوسکتے ہیں اچانک ہی ناراض سرگرمیاں عروج پر پہونچ جاتی ہیں اور اس سے پارٹی کے امکانات متاثر ہوجاتے ہیں۔ ناراض قائدین کی جانب سے بیان بازیوں کے ذریعہ پارٹی کے امیج کو اور بھی زیادہ متاثر کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی ۔
دہلی میں دو معیادوں تک حکومت کرنے والی عام آدمی پارٹی کو اب پنجاب میں بھی اقتدار حاصل ہوا ہے ۔ پنجاب کے بعد عام آدمی پارٹی اب تلنگانہ پر بھی توجہ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ پہلے بھی یہاں عام آدمی پارٹی کی رکنیت ہوئی تھی لیکن درمیان میں ایک وقفہ آگیا تھا ۔ پنجاب میں اقتدار ملنے کے بعد ریاست میں عام آدمی پارٹی کیلئے بھی کیڈر بننے لگا ہے ۔ لوگ اس جانب بھی توجہ دینے لگے ہیں۔ اسی صورتحال کا جائزہ لینے پارٹی کے نیشنل کنوینر اروند کجریوال ریاست کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اروند کجریوال دہلی ماڈل کی حکمرانی کی بہترین انداز میں مارکٹنگ کرتے ہوئے ووٹرس کو رجھانے کا کامیاب تجربہ رکھتے ہیں۔ پنجاب میں بھی انہوں نے ایسا ہی کیا تھا اور دوسری کوشش میں وہاں حکومت بن گئی ۔ اسی طرح تلنگانہ میں بھی وہ دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ بھی تلنگانہ کا آئندہ چند دنوں میں دورہ کرنے والے ہیں ۔ بی جے پی کو یہ احساس ہے کہ تلنگانہ میں اگر محنت کی جائے تو نتائج اس کے حق میں آسکتے ہیں۔ مرکزی قائدین وقفہ وقفہ سے ریاست کا دورہ کرتے ہوئے عوام میں مرکزی حکومت کی اسکیمات کی تشہیر کرنے لگے ہیں۔ امیت شاہ کا تلنگانہ کا یہ پہلا دورہ نہیں ہے ۔ اسی طرح دوسرے قائدین اور مرکزی وزراء بھی ریاست کے دورے کرتے جا رہے ہیں۔ ٹی آر ایس کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔ پارٹی ارکان اسمبلی اور قائدین کو عوام کے درمیان رہنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے ۔
سیاسی حلقوں میں ٹی آر ایس حکومت کے اعلانات کو انتخابات کی تیاریوں سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور اسے یکسر مسترد بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ گذشتہ معیاد میں بھی کے چندر شیکھر راؤ نے چار سال میں اسمبلی تحلیل کرتے ہوئے وسط مدتی انتخابات کروائے تھے ۔ سبھی جماعتوں کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے عوام میں بھی الجھن پیدا ہونے لگی ہے اور یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ آیا ریاست میں وسط مدتی انتخابات ہونگے یا نہیں۔ قطعیت کے ساتھ یہ دعوی نہیں کیا جاسکتا کہ قبل از وقت انتخابات ہونگے یا نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ سیاسی سرگرمیوں میں تیزی پیدا ہوگئی ہے اور عوام بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔