تلنگانہ میں شکست کے بعد پڑوسی ریاستوں سے بھی بی آر ایس کا عملا تخلیہ

   

اوڈیشہ میں سابق چیف منسٹر گمنگ مستعفی ، آندھرا پردیش میں پارٹی کی سرگرمیاں ختم
مہاراشٹرا قائدین کو ملاقات کا موقع نہیں ، تلنگانہ کی 29 بلدیات اور کارپوریشن میں عدم اعتماد تحریکات

حیدرآباد 20 جنوری : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ میں اقتدار سے محروم بی آر ایس کا پڑوسی ریاستوں سے بھی عملا تخلیہ ہو رہا ہے ۔ قومی سطح پر سرگرم رول ادا کرنے ٹی آر ایس کو بی آر ایس میں تبدیل کیا گیا تھا لیکن اپنے ہوم گراونڈ تلنگانہ میں بی آر ایس کو شکست کے اثرات پڑوسی ریاستوں پر بھی ہونے لگے ہیں ۔ بی آر ایس قومی سربراہ نے مختلف ریاستوں میں بی آر ایس کی علاقائی کمیٹیوں کو تشکیل دیا تھا ۔ کے سی آر کی قیادت سے متاثر ہو کر مختلف ریاستوں کے سابق چیف منسٹر سابق وزراء اور دوسرے قائدین بی آر ایس میں شامل ہوئے تھے ۔ پرگتی بھون سیاسی سرگرمیوں کے مرکز میں تبدیل ہوگیا تھا ۔ عجلت میں بی آر ایس کی علاقائی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور ٹی چندر شیکھر کو ریاستی صدر نامزد کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد کبھی آندھرا پردیش میں سیاسی سرگرمیاں شروع نہیں ہوئیں۔ دوسری جانب اوڈیشہ کے سابق چیف منسٹر گریدھر گمنگ اور انکے فرزند شیشد گمنگ و دیگر قائدین کے سی آر سے ملاقات کرکے بی آر ایس میں شامل ہوئے تھے ۔ گریدھر گمنگ سیاسی طاقتور قائد کی شناخت رکھتے ہیں۔ وہ 9 مرتبہ لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے تھے ۔ انہوںنے تلنگانہ انتخابات سے قبل بی جے پی کو چھوڑ کر بی آر ایس میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ تلنگانہ میں بی آر ایس کو شکست کے بعد وہ بی آر ایس سے اب کانگریس میں شامل ہوگئے ۔ بحیثیت چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے مہاراشٹرا کی سیاست پر زیادہ توجہ دی تھی کئی جلسوں سے خطاب میں کانگریس اور بی جے پی کو بڑا چیلنج پیش کیا تھا ۔ فی الحال لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر مہاراشٹرا قائدین حیدرآباد کو پہونچ رہے ہیں ۔ ان قائدین سے سابق کے سی آر و کے ٹی آر ملاقات سے بھی گریز کر رہے ہیں ۔ جس سے یہ قائدین اپنے سیاسی مستقبل کیلئے دوسری جماعتوں میں قسمت آزمانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اقتدار سے بیدخلی کے بعد تلنگانہ کی 29 بلدیات اور کارپوریشن میں بی آر ایس کیلئے اُلٹی گنتی شروع ہوگئی جہاں بی آر ایس کے کونسلرس اور کارپوریٹرس اپنے ہی صدور نشین اور مئیرس کے خلاف عدم اعتماد تحریک کی نوٹس پیش کرچکے ہیں اور کئی بلدیات میں یہ تحریک کامیاب بھی ہوئی ہے اور کانگریس صدور نشین منتخب ہورہے ہیں ۔ کئی ضلع پریشد اور ڈی سی سی بی کے صدور نشین بی آر ایس سے مستعفی ہو کر کانگریس میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں ۔ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد بی آر ایس کیڈر کے حوصلے پست ہیں ۔ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر بی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی آر تلنگانہ بھون میں قائدین کے اجلاس طلب کرکے شکست کی ذمہ داری قبول کررہے ہیں اور غلطیوں کا اعتراف بھی کررہے ہیں ۔ شکست خوردہ ارکان اسمبلی انہیں ذمہ دار قرار دینے پر ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ بی آر ایس اقتدار میں ان کی ایک نہ سننے اور ملاقات بھی نہ کرنے کا قیادت پر الزام عائد کررہے ہیں ۔ چند قائدین پارٹی کا نام بی آر ایس سے دوبارہ ٹی آر ایس کرنے پر زور دے رہے ہیں ۔ 2