تلنگانہ میں کورونا کی صورتحال دیگر ریاستوںسے بہتر: کے ٹی آر

   

پڑوسی ریاستوں سے مریضوںکی حیدرآباد منتقلی، دواخانوں میں بہتر طبی خدمات کے اقدامات، ویکسین کے حصول کی مساعی
حیدرآباد: وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں کورونا کی صورتحال دیگر ریاستوں کے مقابلہ بہتر ہوئی ہے۔ کورونا کے مریضوں کے علاج کے لئے حیدرآباد امید کی ایک کرن بن چکا ہے اور نہ صرف تلنگانہ بلکہ پڑوسی ریاستوں سے کورونا کے مریضوں کو حیدرآباد منتقل کیا جارہا ہے۔ حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی ٹاسک فورس کے پہلے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ریاستی حکومت نے عوام کے تعاون سے کورونا کے کیسیس پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے بھی تلنگانہ حکومت کی ستائش کی ہے۔ مرکزی وزیر صحت نے اعتراف کیا کہ تلنگانہ میں کورونا کیسیس میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ریاست میں صورتحال پوری طرح قابو میں ہیں اور حکومت صورتحال کو جلد از جلد معمول کے مطابق واپس لانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ہوم آئسولیشن کے مریضوں کو سربراہ کی جانے والی ادویات کی کوئی قلت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں بخار کا پتہ چلانے کیلئے شروع کئے گئے سروے میں 60 افراد کا احاطہ کیا گیا جن میں 2.1 لاکھ کٹس تقسیم کئے گئے ۔ حکومت کی جانب سے گھروں پر ادویات کی مفت سربراہی کے نتیجہ میں کئی مریضوں کی زندگی کو بچایا جاسکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اور خانگی دواخانوں میں آئی سی یو آکسیجن اور وینٹی لیٹر کی سہولت کے ساتھ بستروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ حکومت نے ایمرجنی ادویات جیسے ریمیڈیسیور اور زندگی بچانے والی ادویات کا مناسب اسٹاک رکھا ہے ۔ پڑوسی ریاستوں سے مریضوں کی آمد کے پیش نظر مرکز سے درخواست کی گئی کہ تلنگانہ کو ادویات کی مقدار میں اضافہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تین ماہ کیلئے تلنگانہ میں ادویات کا اسٹاک موجود ہے۔ اہم دواؤں کی بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کیلئے سخت قدم اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں 15 لاکھ ریمیڈیسیور انجکشن موجود ہیں اور مینوفیکچرر سے مزید اسٹاک سربراہ کرنے کی خواہش کی گئی ہے ۔ دواخانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ریمیڈیسیور انجکشن کا استعمال اندھا دھند طور پر نہ کریں۔ ریاست میں ٹیکہ اندازی کا حوالہ دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ 45 سال سے زائد عمر کے 92 لاکھ افراد میں سے 38 لاکھ نے ویکسین کی پہلی خوراک حاصل کرلی ہے ۔ 10 لاکھ افراد نے دوسری خوراک بھی حاصل کرلی جن میں ایک لاکھ فرنٹ لائین ورکرس شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کووڈ۔19 سے مربوط ادویات اور ویکسین تیار کر نے والی کمپنیوں کے ساتھ عنقریب ٹاسک فورس کا اجلاس طلب کیا جائے گا ۔