کے سی وینو گوپال کا چیف منسٹر سے ربط، مباحث کے چیالنج سے اپوزیشن کو فائدہ
حیدرآباد۔ 5 جولائی (سیاست نیوز) کانگریس ہائی کمان نے تلنگانہ کے بعض وزراء کی بیان بازی کے ذریعہ پارٹی کیلئے مسائل کھڑے کرنے کی صورتحال کا سختی سے نوٹ لیا ہے۔ حالیہ عرصہ میں وزراء نے مختلف مسائل پر اپوزیشن کو کھلے مباحث کا چیالنج کیا لیکن وزراء اپنے موقف پر قائم نہیں رہے۔ اپوزیشن سے الزامات کے حق میں مضبوط دلائل پیش کرکے حکومت کو دفاعی پوزیشن میں کھڑا کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق جنرل سکریٹری اے آئی سی سی تنظیمی امور کے سی وینو گوپال نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ربط قائم کرکے وزراء پر کنٹرول کرنے اور پارٹی لائن سے ہٹ کر بیان بازی سے گریز کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف منسٹر کی اجازت کے بغیر کئی وزراء بیان بازی کررہے ہیں اور اپوزیشن کے سوالات کا جواب دینے کے موقف میں نہیں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریونت ریڈی نے واضح کردیا کہ انہوں نے وزراء کو بیان بازی سے منع کردیا ہے باوجود اس کے بیانات کا سلسلہ جاری ہے ۔ گزشتہ دنوں اقامتی اداروں میں بے قاعدگیوں اور بی آر ایس دور میں قرض کے حصول پر وزراء نے بی آر ایس کو مباحث کا چیالنج کیا تھا۔ بی آر ایس قائدین مقررہ وقت اور مقام پر پہنچنے نکلے تاہم پولیس نے انہیں اجازت نہیں دی۔ وزراء کے غیر ذمہ دارانہ رویہ پر پارٹی ہائی کمان کو سینئر قائدین کی جانب سے شکایت کی گئی۔ بتایا گیا کہ اے آئی سی سی انچارج میناکشی نٹراجن سے بھی ہائی کمان نے رپورٹ طلب کی ہے۔ کے سی وینو گوپال نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے علاوہ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور میناکشی نٹراجن کو پارٹی میں ڈسپلن کی برقراری کا مشورہ دیا ہے۔ ایسے وقت جبکہ تلنگانہ میں دو سال بعد اسمبلی انتخابات ہیں اور پارٹی دوسری مرتبہ کامیابی کی منصوبہ بندی کررہی ہے، وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے اپوزیشن کو استحکام حاصل ہوسکتا ہے۔ مسائل پر بیان بازی سے قبل وزراء کو چیف منسٹر سے اجازت حاصل کرنی چاہئے۔ پارٹی ہائی کمان نے وزراء کو ہدایت دی کہ وہ مکمل تیاری اور دستاویزی ثبوت کے ساتھ بیان جاری کریں۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بھی بیانات اور چیالنجس کے سلسلہ میں بعض وزراء کی سرزنش کی ہے۔ 1؍F