تلنگانہ و اے پی اسمبلی نشستوں میں اضافہ کیلئے دو سال درکار

   

سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے درخواست قبول کرنے پر ماہرین کا اظہار خیال
حیدرآباد۔21۔ستمبر(سیاست نیوز) دونوں ریاستوں تلنگانہ و آندھراپردیش میں اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کیلئے کم از کم دو سال کا عرصہ لگ سکتا ہے اور سپریم کورٹ کی جانب سے دونوں ریاستوں میں اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ درخواست داخل کئے جانے کے بعد پیدا شدہ صورتحال پر ماہرین نے حلقہ جات اسمبلی کی تنظیم جدید اور ازسر نو حد بندی کے سلسلہ میں اقدامات کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل کے آغاز کی صورت میں اس کی تکمیل کیلئے 2سال کا وقت لگے گا اسی لئے آئندہ انتخابات سے قبل تلنگانہ یا آندھراپردیش میں اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ ممکن نہیں ہے۔ سپریم کورٹ میں داخل کی گئی درخواست کو سپریم کورٹ نے قبول کرتے ہوئے ریاست آندھراپردیش کی تنظیم جدید کے مطابق دونوں ریاستوں کی اسمبلی نشستوں میں اضافہ کے سلسلہ میں مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کو نوٹس جاری کی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس کی اجرائی کے بعد دونوں ریاستوں کے سیاسی حلقوں میں اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کے سلسلہ میں گفت و شنید کا آغاز ہوچکا ہے اور کہا جا رہاہے کہ دونوں ریاستوں میں برسر اقتدار سیاسی جماعتوں کے قائدین سرگرم مشاورت کا آغاز کرچکے ہیں لیکن ماہرین کا کہناہے کہ تلنگانہ میں جہاں ڈسمبر 2023 سے قبل تلنگانہ اسمبلی انتخابات کا انعقاد کیا جانا ہے اور آندھراپردیش میں جون2024 سے قبل نئی اسمبلی کی تشکیل کا عمل مکمل کیا جانا ہے تو ایسی صورت میں دونوں ہی ریاستو ںمیں اسمبلی انتخابات موجودہ اسمبلی نشستوں پر ہی منعقد ہوں گے۔بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں آئندہ سال کے اختتام سے قبل انتخابات کے انعقاد کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات سے قبل بھی اگر حلقہ جات اسمبلی کی از سر نو حد بندی کا عمل شروع کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اسے مکمل کرنے کے لئے دو سال لگیں گے۔ماہرین کے مطابق الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے تلگو ریاستوں میں حلقہ جات اسمبلی کی ازسر نو حد بندی کے عمل کا آغاز کیا جاتا ہے اور نئی حد بندیوں کے عمل کو 6ماہ میں مکمل کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا جاتا ہے تو اس کے بعد بھی الیکشن کمیشن آف انڈیا کو اعترضات اور ادعا جات کی پیشکشی کے لئے وقت دینا ہوگا اور اعترضات موصول ہونے کے بعد کی جانے والی کاروائیوں کو مکمل کیا جائے گا تو ایسی صورت میں حد بندی کی قطعی فہرست جاری کئے جانے کے بعد بھی اعلامیہ کی اجرائی میں کافی وقت لگ سکتا ہے اسی لئے یہ کہا جارہا ہے کہ اگلے انتخابات اسمبلی کی موجودہنشستوں پر ہی منعقد کئے جائیں گے۔م