تلنگانہ چاول کی برآمدات کا آغاز، فلپائن کو پہلی کھیپ روانہ

   

اتم کمار ریڈی نے کاکیناڈا پورٹ پر جہاز کو جھنڈی دکھائی، ایک لاکھ میٹرک ٹن چاول اور 8 لاکھ میٹرک ٹن دھان کی روانگی
حیدرآباد ۔ یکم اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ریاست میں دھان کی ریکارڈ پیداوار کو دیکھتے ہوئے عالمی مارکٹ میں چاول کی برآمدات کا فیصلہ کیا ہے۔ اِس سلسلہ میں چاول کی فلپائن کو برآمدات کا آغاز ہوا۔ عالمی منڈی میں فلپائن کے ذریعہ تلنگانہ حکومت نے عالمی سطح پر خریداروں کی تلاش شروع کردی ہے۔ وزیر سیول سپلائز اتم کمار ریڈی نے آندھراپردیش کے کاکیناڈا پورٹ سے 12,500 میٹرک ٹن چاول کی پہلی کھیپ کو جھنڈی دکھاکر روانہ کیا۔ اِس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ کے کسانوں اور زرعی شعبہ کے لئے یہ بڑی خوشخبری ہے اور تلنگانہ کا چاول عالمی منڈی میں پسند کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ دھان کی پیداوار میں ملک کی نمبر ون ریاست بن چکی ہے۔ کانگریس حکومت کی جانب سے کسانوں کو دی جانے والی امداد اور سازگار موسمی حالات کے نتیجہ میں دھان کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ تلنگانہ میں کسان زیادہ تر دھان کی کاشت کرتے ہیں۔ جاریہ سال دھان کی پیداوار 280 لاکھ میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی جو ریاست کیلئے ایک ریکارڈ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت ہند اور فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کی جانب سے درکار منظوری میں تاخیر کے سبب فلپائن کو چاول کی پہلی کھیپ روانہ کرنے میں تاخیر ہوئی ہے۔ چاول کے معیار کا جائزہ لینے کے بعد فلپائن کی حکومت نے ایک لاکھ میٹرک ٹن چاول اور 8 لاکھ میٹرک ٹن دھان کی خریدی کا فیصلہ کیا۔ اِس سلسلہ میں سیول سپلائز کارپوریشن اور فلپائن حکومت کے درمیان یادداشت مفاہمت پر دستخط کئے گئے ہیں۔ اکسپورٹ کے تحت 36 ہزار روپئے فی میٹرک ٹن سربراہی عمل میں آئے گی۔ تلنگانہ ریاست نے پہلی مرتبہ چاول کی درآمدات کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اُمید کی جارہی ہے کہ دیگر ممالک بھی چاول کی خریدی کے لئے تلنگانہ سے رجوع ہوں گے۔ حکومت کا مقصد کسانوں کو دھان کا مناسب معاوضہ ادا کرنا ہے۔ اتم کمار ریڈی نے وضاحت کی کہ سابق بی آر ایس حکومت کی طرح کسانوں پر دھان کی پیداوار کے لئے کوئی بھی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ کاکیناڈا پورٹ سے فلپائن کو چاول کی پہلی کھیپ کی روانگی کے موقع پر سیول سپلائز کے اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔1