امریکہ میں مقیم حیدرآبادیوں کے کانگریس کے اعلیٰ قائدین کو پیامات
نظام آباد:11/جون ( سیاست نیوز ) تلنگانہ حکومت کی جانب سے کابینہ میں توسیع میں مسلم نمائندے کی عدم شمولیت پر جہاں تلنگانہ میں شدت کے ساتھ مخالفت کی جا رہی تھی وہیں امریکہ میں مقیم حیدرآبادی مسلمانوں کی جانب سے بھی شدید مخالفت کرتے ہوئے راہول گاندھی ، کل ہند کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھرگے، سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی سے فوری مداخلت کرتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ انصاف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹویٹر کے ذریعے پیغامات روانہ کرنے کے علاوہ امریکہ میں مقیم نظام آباد سے تعلق رکھنے والے عبداللہ کوثر اور امین الزماں نے بوسٹن امریکہ سے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے بتایا کہ تلنگانہ کی کابینہ میں مسلم نمائندے کی عدم شمولیت سے اس کا اثر آنے والے دنوں میں سارے ملک پر پڑھنے کے امکانات ہیں ۔ عبداللہ کوثر نے کہا کہ2023 کے انتخابات میں انہوں نے خصوصی طور پر ہندوستان پہنچ کر انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا اور نظام آباد میں کانگریس کی کامیابی کے لیے مہم چلائی تھی اور اس وقت کانگریس ہائی کمان نے مسلمانوں کے ساتھ مکمل انصاف کرنے کا اعلان کیا تھا اور سب کو برابر نمائندگی فراہم کرنے کا تیقن دیا تھا انہوں نے کہا کہ دو مرتبہ کابینہ میں توسیع کی گئی لیکن مسلمانوں کو نمائندگی فراہم نہیں کی گئی جس طرح مرکز میں مسلمانوں کو نمائندگی نہیں ہے اسی طرح تلنگانہ میں بھی نمائندگی نہ حاصل ہونے کی صورت میں اس کا اثر سارے ملک پر ہوتا ہے اور ہم نہیں جاتے کہ کانگریس کا نقصان ہو اسی لیے یہ آواز امریکہ سے دی جا رہی ہے کانگریس ہائی کمان اس معاملے میں فوری طور جائزہ لیتے ہوئے مناسب نمائندگی فراہم کرے۔ اس موقع پر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے امین الزماں نے بتایا کہ وہ گزشتہ چالیس سالوں سے امریکہ میں مقیم ہیں روایتی طور پر مسلمان آزادی کے بعد سے پنڈت جواہر لال نہرو کے دور سے لے کر سونیا گاندھی اور راہول گاندھی تک کانگریس کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ کیونکہ ہم سیکولر اقدار کے حامی ہیں۔یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ تاریخ میں پہلی بار دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ تلنگانہ حکومت جس کی قیادت ریونت ریڈی کر رہے ہیں ان کی ہم نے اور تلنگانہ کے مسلمانوں نے حکومت بنانے میں بھرپور حمایت کی تھی لیکن اُس حکومت میں مسلمانوں کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ بی جے پی کی حکومت میں نہ تو کسی ریاست میں اور نہ ہی مرکزی حکومت میں مسلمانوں کو کوئی نمائندگی حاصل ہے ویسے ہی لگتا ہے کہ ریونت ریڈی بھی بی جے پی کا ماڈل اپنا رہے ہیں جو کہ کانگریس کے لیے نہایت افسوسناک ہے۔تاہم راہول گاندھی، پرینکا گاندھی اور سونیا گاندھی پر بھروسہ ہے کہ وہ مداخلت کریں گے اور ریاستی حکومت کو قائل کریں گے کہ وہ مسلمانوں کو نمائندگی فراہم کرے۔کیونکہ کئی این آر آئیز، خاص طور پر حیدرآبادی اور تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے جو امریکہ میں مقیم ہیں وہ تلنگانہ حکومت کی کامیابی کے خواہاں ہیں حکومت اور کانگریس کی حمایت کرتے ہیں لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ تلنگانہ حکومت میں جس طرح دیگر طبقات کو نمائندگی فراہم کی گئی ہے اسی طرح مسلمانوں کو نمائندگی حاصل ہو۔