تلنگانہ کے 10 لوک سبھا حلقوں میں آج مسلمانوں کے شعور کا امتحان

   

ووٹنگ فیصد میں اضافہ اور متحدہ رائے دہی ضروری، 47 اسمبلی حلقہ جات میں مسلمان فیصلہ کن موقف میں، روز نامہ ’سیاست ‘کی کامیاب مہم
حیدرآباد ۔/12 مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کی 17 لوک سبھا نشستوں کیلئے کل 13 مئی کو رائے دہی مقرر ہے اور تمام اہم سیاسی پارٹیوں کی نظریں مسلم رائے دہی پر مرکوز ہوچکی ہیں۔ ریاست کے بیشتر لوک سبھا حلقوں میں کانگریس کا بی جے پی سے راست مقابلہ ہے اور صرف چند ایک حلقہ جات میں سہ رُخی مقابلہ کانگریس، بی جے پی اور بی آر ایس میں ہے ۔ ملک بھر میں فرقہ پرست اور نفرت کے پرچارکوں کو شکست دینے سیکولر اور اقلیتی ووٹرس میں شعور بیداری مہم کا کل تلنگانہ میں امتحان رہے گا۔ کانگریس اپنے ووٹ بینک سے متعلق مطمئن ہے تاہم اسے مسلم رائے دہی کی اس لئے بھی فکر ہے کہ اگر مسلمان متحدہ طور پر کانگریس کے حق میں ووٹ کا استعمال کریں تو بی جے پی کو کامیابی سے روکا جاسکتا ہے ۔ تلنگانہ میں 4 لوک سبھا حلقوں سے نمائندگی کرنے والی بی جے پی نے اس مرتبہ 10 لوک سبھا حلقوں کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ بی جے پی کو روکنے میں مسلم ووٹرس اہم رول ادا کرسکتے ہیں بشرط یہ کہ وہ ایک طرف اپنے ووٹنگ فیصد میں اضافہ کریں اور دوسرے یہ کہ متحدہ طور پر کانگریس کے حق میں رائے دہی کریں۔ مسلم ووٹنگ فیصد میں اضافہ ہو اور کانگریس اور بی آر ایس میں ووٹ تقسیم ہوتے ہیں تو اس کا راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ تلنگانہ میں روز نامہ ’سیاست‘ نے تقریباً تمام اضلاع میں شعور بیداری مہم کا اہتمام کیا تاکہ مسلمانوں کو موجودہ نازک حالات میں ووٹ کی اہمیت سے واقف کرایا جاسکے۔ نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خاں نے دیگر کئی رضاکارانہ تنظیموں، مذہبی جماعتوں اور جہد کاروں کے اشتراک سے کامیاب شعور بیداری مہم کا اہتمام کیا۔ ائمہ اور خطباء نے جمعہ کے موقع پر ووٹ کی اہمیت سے مسلمانوں کو واقف کرایا۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 13 فیصد ہے اور 119 کے منجملہ 47 اسمبلی حلقہ جات میں مسلم اقلیت فیصلہ کن موقف رکھتی ہے۔ گذشتہ اسمبلی چناؤ میں بی آر ایس کو ایسے 20 حلقوں میں کامیابی ملی تھی جہاں مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ کی مجموعی آبادی میں زیادہ تر شہری علاقوں میں بستے ہیں۔ ملک بھر میں لوک سبھا انتخابات کی اہمیت اور فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف محاذ آرائی کے پس منظر میں تلنگانہ کی 17 میں 10 نشستیں ایسی ہیں جہاں اقلیتی رائے دہندے اپنی پسند کے امیدوار کو کامیاب کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ بی جے پی نے جن 10 حلقوں کو نشانہ پر رکھا ہے ان میں تقریباً حلقہ جات ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی آبادی فیصلہ کن موقف رکھتی ہے۔ تلنگانہ میں بی جے پی کے بڑھتے قدم کو روکنے کیلئے اقلیتوں کو اپنی ذمہ داری محسوس کرنا ہوگا۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں اقلیتی رائے دہی کا فیصد 30 تا 35 درج کیا گیا تھا۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو کم از کم 60 فیصد سے زائد رائے دہی کرنی ہوگی اور ایسے امیدواروں کے حق میں متحدہ ووٹنگ کی جائے جو بی جے پی کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تلنگانہ میں انتخابی مہم کے اختتام کے بعد سیاسی مبصرین نے جو اندازے قائم کئے ہیں ان کے مطابق 17 لوک سبھا حلقوں میں تقریباً 14 حلقوں میں کانگریس کا بی آر ایس سے راست مقابلہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عادل آباد، سکندرآباد، نظام آباد، ملکاجگری، چیوڑلہ، کریم نگر، محبوب نگر، ناگر کرنول اور ظہیرآباد میں بی جے پی نے اپنی طاقت جھونک دی ہے اور مذکورہ حلقہ جات میں اگر مسلم رائے دہندے شعور بیداری کا مظاہرہ کریں تو بی جے پی کی نشستوں کو موجودہ 4 تک محدود رکھا جاسکتا ہے۔ شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی مسلم رائے دہندوں کو صبح کی اولین ساعتوں میں اپنے افراد خاندان کے ساتھ رائے دہی کا عمل مکمل کرنا چاہیئے۔1