حیدرآباد۔ 7۔اکٹوبر(سیاست نیوز) جنوبی ہند میں ’’چولہ دور حکومت‘‘ میں ہندو مذہب کے نام سے کوئی مذہب نہیں تھا اور اب ملک میں نفرت پھیلانے والوں کی جانب سے ہندو لفظ کا استعمال کرتے ہوئے تمل تہذیب و تمدن کے سرقہ کے ذریعہ اسے زعفرانی کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ قومی ایوارڈ یافتہ فلم ڈائریکٹر ویتری مارن کے اس بیان کو معروف اداکار و فلم ساز کمل ہاسن نے کھل کر تائید کرتے ہوئے کہا کہ’چولہ دور حکومت ‘ میں کوئی ہندو نہیں تھا اور اسے زعفرانی کرنے کی کوششوں کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔کمل ہاسن نے کہا کہ راجہ چولہ کے دور میں ہندو مذہب کے نام سے کوئی دھرم نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ راجہ چولہ کے دور میں وینوم ‘ شیوم اور سمانم کے نام سے لوگوں کو جانا جاتا تھا لیکن برطانوی سامراج نے ہندو لفظ ایجاد کیا کیونکہ وہ مذکورہ الفاظ کے استعمال اور تفریق سے واقف نہیں تھے۔انہو ںنے مزید کہا کہ وینوم ‘ شیوم ‘ اور سمانم کو اسی طرح سے ہندو بنایاگیا ہے جس طرح سے توتوکوڈی کو ٹوٹی کورین بنایا گیا ہے۔ڈائریکٹر ویاتمارن اور کمل ہاسن کے ان بیانات پر بھارتیہ جنتاپارٹی کی جانب سے شدید تنقید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا جا رہاہے کہ راجہ چولہ ہند راجہ تھا جبکہ دونوں ہی نے تاریخی حوالوں سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ ہندو راجہ نہیں تھا۔م