200 مکانات اب بھی پانی میں محصور، مکین مدد کے طلب گار ، پانی کی جلد نکاسی کیلئے عہدیداروں کا تیقن
حیدرآباد : ماہ ستمبر میں ہوئی شدید بارش سے حیدرآباد کے مضافات میں عثمان نگر اور شاہین نگر کے علاقوں میں پانی داخل ہوگیا تھا اور وہ زیرآب ہوگئے تھے ۔ دو ماہ تک یہ پورا علاقہ پانی میں محصور رہا اس کے بعد انتظامیہ نے سیلاب کے پانی کو دور کرنے کیلئے اقدامات کئے ۔ تاہم عثمان نگر میں اب بھی ، تقریباً 200 مکانات پانی میں گھرے ہوئے ہیں ۔ ان لوگوں کا برا حال ہے ۔ جن کے مکانات گزشتہ چار ماہ سے زیرآب ہیں ۔ پانی ان کے نشیبی علاقوں کے مکانات میں داخل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے مکانات کی بنیادیں کمزور ہوگئی ہیں ۔ الیکٹرانک سامان کو نقصان پہنچا ہے اور فرنیچر تباہ ہوگیا ۔ ان مکانات کے مکینوں کو ان کے رشتہ داروں کے پاس منتقل ہونے پر مجبور ہونا پڑا ۔ حالانکہ وہ ان کے زیرآب مکانات کا برابر کرایہ ادا کررہے ہیں ۔ عثمان نگر سے بہت قریب سیف کالونی کے ساکن محمد امجد نے کہا کہ ’’ہم جلد ہی سال 2021 ء میں داخل ہوں گے۔ لیکن ہمارے مکانات اب بھی زیرآب ہیں ۔ میرے گھر کا تمام فرنیچر تباہ ہوگیا اور الیکٹرک کی اشیاء بھی ۔ کوئی بھی ہمارے دکھ کو نہیں سن رہا ہے ۔ ‘‘ دوسروں کی طرح وہ بھی ستمبر میں سیلاب شروع ہونے کے بعد ایک اونچی جگہ پر مقیم ہیں ۔ چند ہفتہ پہلے عثمان نگر کے ایک 52 سالہ شخص شیخ جعفر کے مکان سے پانی تو ہٹ گیا لیکن اس کی وجہ سے کافی تباہی ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرے مکان کی پوری دیوار میں شگاف پڑگیا ۔ کوڑا کرکٹ اور گندگی کو صاف کرنے کیلئے ہم کو کئی دن لگے جو پانی آنے کی وجہ سے ہوگیا تھا ۔ اس کے لئے مجھے کون معاوضہ دے گا ‘‘ ۔ پانی دور ہونے کے ساتھ اس علاقہ میں پانی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے ۔ کئی لوگوں کو یہاں جلد کی الرجی ہونے کی اطلاعات ہیں اور اس علاقہ میں صاف و صفائی کی ابتر صورتحال پر حکومت کے ردعمل پر سوالات کئے جارہے ہیں ۔ جل پلی میونسپلٹی کے سینٹری انسپکٹر معین بابا نے کہا کہ ’’ہم اس پورے علاقہ میں صفائی کا کام کررہے ہیں ۔ اور ہم نے سیلابی پانی کے چھوڑے ہوئے کافی سیوریج کی صفائی کی ہے ۔ آئندہ دنوں میں پورا علاقہ صاف ہوگا ‘‘ ۔