جامعہ نظامیہ کی رائے درگ اراضی معاملہ پر ہائیکورٹ میں سماعت

   

اراضیات کی موجودہ نوعیت اور تصویری شواہد کی کل پیشی کی ہدایت

حیدرآباد۔18۔اگسٹ(سیاست نیوز) جامعہ نظامیہ کے تحت موقوفہ اراضی پر موجود پتھروں اور پہاڑوں کے تحفظ اور ماحولیاتی آلودگی سے علاقہ کو محفوظ رکھنے کے لئے تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس ناگیش بھیماپاکا نے تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچرکارپوریشن کو ہدایت دی کہ وہ سروے نمبر 83/1 کے تحت موجود ’’محفوظ‘‘ اراضیات و تہذیبی ورثہ کے ہراج سے متعلق عدالت میں جواب داخل کریں۔ جنوری 2001 میں جاری کئے گئے حکومت آندھراپردیش کے جی او ایم ایس 4کے تحت سروے نمبر 83 پان مقطعہ رائے درگ کو مکمل طو رپر ’محفوظ‘ اراضیات میں شامل کیاگیا تھا اور اب تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کی جانب سے اس اراضی میں 2پلاٹس تیار کرتے ہوئے اس کے ہراج کا منصوبہ تیار کئے ہوئے تھا جسے ملتوی کردیا گیاہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں ماحولیات کے تحفظ کے سلسلہ میں دائر کی گئی اس درخواست کی سماعت کے بعد جسٹس ناگیش بھیماپاکا نے 20 اگسٹ کو مذکورہ مقدمہ کی آئندہ سماعت منعقد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کو ہدایت دی کہ وہ 20 اگسٹ کو منعقد ہونے والے سماعت کے دوران جوابی حلف نامہ کے ساتھ اراضیات کی موجودہ نوعیت اور اس کے موقف کے تصویری شواہد عدالت میں پیش کرے۔عدالت نے واضح کیا کہ مذکورہ اراضی پر موجود پہاڑ اور پتھروں سے کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کئے بغیر تصاویر لی جائیں اور انہیں بھی عدالت میں پیش کیا جائے ۔ جامعہ نظامیہ کے تحت موقوفہ 510 ایکڑ35 گنٹے اراضی کے ’’تہذیبی ورثہ‘‘ میں شامل ہونے کے سلسلہ میں یہ علحدہ مقدمہ تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کیا گیا ہے جبکہ پہلے ہی سروے نمبر 83/1 کے موقوفہ اراضی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے درخواست داخل کی جاچکی ہے اور اس مقدمہ کی سماعت بھی 20 اگسٹ کو مقرر ہے۔ جسٹس ناگیش بھیماپاکا کی بنچ پر ہوئی سماعت کے دوران درخواست گذار کے وکیل کی حیثیت سے نامور وکیل مسٹر وی ہری ہرن نے پیش ہوتے ہوئے مذکورہ جائیداد پر کسی بھی طرح کی سرگرمیوں کو روکنے اور ’تہذیبی ورثہ‘ کے تحفظ کے اقدامات کے علاوہ جی او 4 پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے اقدامات کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے ہراج کو فوری طور پر روکنے کی ہدایت دی جائے۔ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کی جانب سے اڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل مسٹر رجنی کانت ریڈی نے پیش ہوتے ہوئے کارپوریشن کے موقف کو پیش کرنے کے لئے وقت طلب کیا جس پر عدالت نے 20 اگسٹ کو آئندہ سماعت تک جوابی حلف نامہ معہ تصاویر پیش کرنے کی ہدایت دی۔3/k/i