وائیٹ پیپر جاری کرکے اپنا موقف ظاہر کرے۔ شیخ عبداللہ سہیل کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 3 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے سینئیر قائد شیخ عبداللہ سہیل نے رائے درگ میں جامعہ نظامیہ کی قیمتی وقف اراضی کی نیلامی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کی عدالتی تحقیقات کرانے اور وائیٹ پیپر جاری کرنے کا کانگریس حکومت سے مطالبہ کیا ۔ اقلیتی ادارے کی 1490 کروڑ روپئے کی اراضی کو ہڑپ لینے کا الزام عائد کیا اور وقف بورڈ کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ عبداللہ سہیل نے کانگریس حکومت کی جانب سے جامعہ نظامیہ کی اس وقف اراضی کو نیلام کرنے کے اقدام پر شدید نکتہ چینی کی ۔ اس پورے معاملے کی ہائی کورٹ کے برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جب تک زمین کی حقیقی وقف حیثیت کا آزادانہ طور پر تعین نہیں ہوجاتا تب تک اس کی منتقلی ، رجسٹریشن یا کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی پر فوری روک لگائی جائے ۔ شیخ عبداللہ سہیل نے انکشاف کیا کہ کانگریس حکومت نے (TGIIC) کے ذریعہ اس قیمتی زمین کو تقریباً 237 کروڑ روپئے فی ایکڑ کے حساب سے نیلام کیا ہے جس سے حکومت کو 1490 کروڑ روپئے حاصل ہونے کی اطلاع ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیکولر اور اقلیت نواز ہونے کا دعویٰ کرنے والی کانگریس حکومت مذہبی ، تعلیمی اور وقف کردہ جائیدادوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے ان اراضیات کو فروخت کر کے پیسہ کمانے میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر حکومت خود اوقافی اراضی ہزاروں کروڑ میں فروخت کرے گی تو پھر تلنگانہ میں وقف بورڈ کو برقرار رکھنے کا مقصد ہی کیا رہ جاتا ہے ۔ بی آر ایس کے قائد نے کہا کہ جامعہ نظامیہ اور وقف کے پاس اس قیمتی اراضی کے تاریخی اور مستند ریکارڈ موجود ہیں ۔ جن میں کتاب الاوقاف ، وقف نامہ کے اندراج اور خود وقف بورڈ کے پرانے گزٹ نوٹیفکیشن شامل ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ یہ اراضی ملک کے قدیم ترین اور معتبر اسلامی تعلیمی ادارے جامعہ نظامیہ سے منسلک وقف جائیداد ہے ۔ اس جائیداد کو مرکزی حکومت کے قومی ’امید ‘ پورٹل پر اپ لوڈ اور اسکیان تصدیق کے بعد ایک منفرد وقف آئی ڈی بھی الاٹ کی گئی ہے ۔۔ 2/m/b