حیدرآباد: کانگریس پارٹی نے ناگرجنا ساگر ضمنی الیکشن کی انتخابی مہم کے سلسلہ میں اجلاس منعقد کیا جس میں انتخابی مہم کے طریقہ کار اور سینئر قائدین کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کے لئے ناگرجنا ساگر کی نشست وقار کا مسئلہ بن چکی ہے کیونکہ ہائی کمان نے ضمنی چناؤ تک انہیں عہدہ پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کونسل کی گریجویٹ نشستوں پر کانگریس کی کامیابی کے امکانات موہوم ہیں جبکہ پارٹی کو جانا ریڈی سے کافی امیدیں ہیں جو 2018 ء میں 7700 ووٹ سے ہار گئے تھے ۔ جانا ریڈی اس حلقہ کی پانچ مرتبہ نمائندگی کرچکے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ نلگنڈہ اور بھونگیر کے ارکان پارلیمنٹ کی تائید سے وہ کامیاب رہیں گے ۔ جانا ریڈی نے الیکشن تک پردیش کانگریس کی صدارت تبدیل نہ کرنے کیلئے ہائی کمان کو راضی کرایا ہے۔ اسی دوران اتم کمار ریڈی ناگرجنا ساگر میں پارٹی کی کامیابی کو یقینی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نرسمہیا نے منتخب ہونے کے بعد عوامی مسائل کی یکسوئی کیلئے کوئی غیر معمولی کام نہیں کیا جس کے نتیجہ میں ٹی آر ایس کا موقف کمزور ہے ۔ جانا ریڈی نے حلقہ کی ترقی کے لئے رکن اسمبلی کی حیثیت سے کئی قدم اٹھائے تھے۔ واضح رہے کہ 2014 ء اسمبلی انتخابات میں این نرسمہیا کو جانا ریڈی کے مقابلہ 16,000 ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ جانا ریڈی نے پارٹی کے سینئر قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے انتخابی حکمت عملی کو قطعیت دی ہے۔ پرچہ نامزدگی کے ادخال اور مہم کے سلسلہ میں مختلف پروگراموں کو طئے کیا گیا۔