جس قوم کے اندر سے بہادری کی صفت ختم ہوتی ہے اس قوم پر دشمنوں کا غلبہ ہوتا ہے۔ مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی۔ جمعہ بیان

   

اللہ تعالی نے جن بہترین و بلند صفات کو اختیار کرنے کےلیے بندوں کو دعوت دی ہے، ان میں سے ایک بہترین صفت جس کے ذریعے سے انسان دنیا میں ترقی کرتا ہے، عزت اور سرخروئی حاصل کرتا ہے، ظالموں کو ظلم سے روک سکتا ہے، دنیا میں عدل وانصاف قائم کر سکتا ہے، اپنا حق دشمنوں سے لے سکتا ہے اور دنیا میں عدل وانصاف کی حکومت کو قائم کر سکتا ہے وہ صفت ہے بہادری۔

بہادری وہ صفت ہے جس کی وجہ سے قوم کو زندگی حاصل ہوتی ہے، قوم کے اندر عزائم اور ولولہ پیدا ہوتا ہے، قوم کو قیادت اور لیڈرشپ حاصل ہوتی ہے، قوم دنیا میں قیادت اور حکومت کے لائق بنتی ہے، اگر بہادری کی یہ صفت کسی قوم یاملت سے ختم ہوجائے پھر دشمن اس پر غالب آجاتا ہے، ذلت اور پستی کے وہ بالکل اندھیرے میں چلی جاتی ہے۔ اسلام نے خاص طور پر بہادری کی صفت کو اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے۔

بہادری کا مطلب یہ ہے کہ خیر کو حاصل کرنے کےلیے، اچھائی کو حاصل کرنے کےلیے اور برائی کو مٹانے کےلیے مقابلہ کرنا ، ثابت قدمی کو اختیار کرناکرنا، ڈٹے رہنا، ہمت اور حوصلہ سے کام لینالینا اسکول بہادری کہتے ہیں۔

پورا بیان سننے کےلیے یہاں کلک کریں۔